• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

استعانت ظاہری غیر مستقل سے کیا مراد ہے؟

استفتاء

تفسیرِ عثمانی  میں سورۃ الفاتحہ کی تفسیر میں لکھا ہے:

”اس آیت شریفہ سے معلوم ہوا کہ اس کی ذات پاک کے سوا کسی سے حقیقت میں مدد مانگنی بالکل ناجائز ہے۔ ہاں اگر کسی مقبول بندہ کو واسطۂ رحمتِ الٰہی اور غیر مستقل سمجھ کر استعانت ظاہری اس سے کرےتو یہ جائز ہے کہ یہ استعانت در حقیقت حق تعالیٰ ہی سے استعانت ہے۔“

دریافت یہ کرنا ہے کہ اس عبارت میں استعانت ظاہری اور غیر مستقل سے کیا مراد ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ماتحت الاسباب مدد طلب کرنے کو استعانتِ ظاہری، غیر مستقل کہتے ہیں اور ما فوق الاسباب مدد طلب کرنے کو استعانتِ حقیقی مستقل کہتے ہیں۔ استعانتِ ظاہری مخلوق سے بھی ممکن ہے اور استعانتِ حقیقی اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے۔

آسان الفاظ میں یوں سمجھیں کہ ہمیں روزانہ مختلف امور میں ایک دوسرے کے تعاون اور مدد کی ضرورت پڑتی رہتی ہے، اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے  کسی بندہ سے اسباب کے تحت ایسی چیز میں مدد لینا جو اس کے بس اور اختیار میں ہو  اسے استعانتِ ظاہری اور غیر مستقل کہتے ہیں۔ ”ظاہری“ تو  اس وجہ سے کہ یہ مدد بظاہر بندہ کرتا ہے مگر حقیقت میں یہ اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے، بندہ تو محض وسیلہ اور ذریعہ بنتا ہے اور ”غیر مستقل“ اس وجہ سے کہ بندہ کی مدد عارضی ہوتی ہے، کبھی کر سکتا ہے اور کبھی عاجز آ جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی مدد حقیقی اور مستقل ہوتی ہے، کبھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ کسی معاملہ میں کسی بھی لمحے  مدد کرنے سے عاجز آ جائے۔ (العیاذ باللہ)

فائدہ:

اس عنوان پر تفصیل مطلوب ہو تو امام اہل السنت شیخ التفسیر والحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کی کتاب”اتمام البرھان فی ردّ توضیح البیان “ اور ”تنقیدِ متین“ کا اس مقام پر مطالعہ کیجیے۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved