- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
زکوٰۃ کن اشخاص کو دینا جائز ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
درج ذیل تفصیل ملاحظہ ہو۔ اس سے واضح ہو جائے گا کہ کن لوگوں کو زکوٰۃ دینا جائز ہے اور کن کو نا جائز؟
[1]: اگر کسی شخص کی ملکیت میں ساڑھے سات تولے سونا (87.48 گرام) یا ساڑھے باون تولہ چاندی (612.36 گرام) یا سونے یا چاندی کی مذکورہ مقدار سے کم ہو تو اب دیکھا جائے گا کہ اگر اس کی ملکیت میں یہ پانچ چیزیں سونا ، چاندی ، نقدی ، مالِ تجارت اور گھر کا زائد از ضرورت سامان موجود ہوں یا ان میں سے بعض موجود ہوں اور ان کی مجموعی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو تو اس شخص کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں! ہاں اگر اس مجموعہ کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے کم ہو تو ایسے شخص کو زکوٰۃ دینا جائز ہے۔
فائدہ نمبر1: زائد از ضرورت سامان سے مراد وہ سامان ہے جس کے بغیر انسان کی بنیادی ضروریات پوری ہو جاتی ہوں۔ اس تعریف کی رو سے کھانے پینے کا سامان، رہائشی مکان، استعمال کے کپڑے اور زیورات، گھریلو ضروری اشیاء (مثلاً سلائی اور دھلائی کی مشین، فریج، کھانا پکانے کے برتن وغیرہ)، تاجروں اور مزدور طبقہ کے آلاتِ صنعت و حرفت (مثلاً مشینری، فرنیچر وغیرہ) ضرورت کا سامان کہلائے گا، اور ایسا سامان، برتن اور کپڑے وغیرہ جو بنیادی ضرورت و حاجت کے نہ ہوں اور سال بھر میں ایک بار بھی استعمال نہ ہوتے ہوں تو وہ زائد از ضرورت سامان شمار ہوں گے۔
فائدہ نمبر2: ان پانچ چیزوں کے مجموعے کو ”حرمانِ زکوٰۃ کا نصاب“ کہا جاتا ہے۔ اس نصاب کی موجودگی میں زکوٰۃلینا جائز نہیں۔ نیز یہی نصاب وجوبِ صدقۃ الفطر کا بھی ہے۔
[2]: زکوٰۃ اپنے اصول (ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی) اور فروع (بیٹا بیٹی، پوتا پوتی اور نواسا نواسی) کو دینا جائز نہیں ہے۔
[3]: بیوی ؛ شوہر کو اور شوہر ؛ بیوی کو زکوٰۃ نہیں دے سکتا ۔
[4]: بھائی، بھابھی، بھتیجا، بہن اگر نصاب کے مالک نہیں اور مستحق بھی ہیں اور ان کا کھانا پینا الگ ہو تو ان سب کو زکوٰۃ دینا جائز ہے۔
[5]: سادات کو زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ دینا جائز نہیں ہے۔ سادات سے مراد خاندانِ بنو ہاشم ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ، حضرت جعفر رضی اللہ عنہ، حضرت عقیل رضی اللہ عنہ اور حضرت حارث بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کی اولاد اور ان کے نسب سے تعلق رکھتے ہوں۔ اس لیے ان کی مدد زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ کے علاوہ دیگر صدقات سے کی جائے۔
[6]: اگر میاں بیوی میں سے کوئی ایک بنی ہاشم سے ہو اور دوسرا غیر بنی ہاشم سے ہو تو جو غیر بنی ہاشم سے ہو اس کو زکوۃ دی جا سکتی ہے۔ اگر باپ بنی ہاشم سے ہو تو اس کی اولاد بھی بنی ہاشم سے شمار ہوگی۔ اگر باپ غیر بنی ہاشم سے ہو، بیوی بنی ہاشم سے ہو تو اولاد غیر بنی ہاشم شمار ہوگی کیونکہ نسب میں باپ کا اعتبار ہوتا ہے، ماں کا نہیں۔
[7]: اگر استاذ غریب ہے اور نصاب کا مالک نہیں ہے تو شاگرد کے لیے استاذ کو زکوٰۃ دینا جائز بلکہ افضل ہے۔
[8]: مسجد میں زکوٰۃ کی رقم نہیں دے سکتے۔
[9]: مستحق ملازمین کو بطورِ تنخواہ زکوۃ کی رقم دینا جائز نہیں۔ ہاں تنخواہ کے عنوان کے علاوہ انہیں کسی اور عنوان مثلاً ہدیہ کہہ کر بغیر عوض کے دی جا سکتی ہے۔
[10]: ایسی NGO’s اور ادارے جو شرعی حدود کا لحاظ نہیں کرتے، انہیں زکوۃ دینا جائز نہیں۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved