• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

قسم کی ایک خاص صورت اور اس کا حکم

استفتاء

ایک لڑکا ایک لڑکی سے نکاح کی نیت سے محبت کرتا تھا ۔ لڑکا غیر ملک میں تھا۔اس کی نیت تھی  اور اس نے اس لڑکی سے بھی کہا کہ پاکستان آتے ہی  میں تمہارے والدین کی رضا مندی سے تم سے نکاح کروں گا۔   چنانچہ اس لڑکے نے خود بھی قسم اٹھائی اور اس لڑکی سے بھی قرآن مجید کی قسم اٹھوائی کہ آپ ہر حال میں میرا ساتھ دو گی،  کسی اور سے کبھی بھی نکاح نہیں کرو گی۔ لڑکی نے بھی قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر قسم اٹھائی کہ ”میں بھی کسی اور سے نکاح نہیں کروں گی ورنہ مر جاؤں گی۔“ لڑکا واپسی کے وسائل بنا رہا تھا کہ اچانک اس کا حادثہ ہو گیا  اور وہ وفات پا گیا۔ اب لڑکی کے لیے کیا حکم ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

لڑکی کے ان الفاظ ”میں بھی کسی اور سے نکاح نہیں کروں گی ورنہ مر جاؤں گی“ کے ساتھ قسم اٹھانے سے قسم منعقد ہو گئی ہے۔ اب اسے چاہیے کہ کسی جگہ نکاح کر لے۔ اس سے اس کی قسم ٹوٹ جائے گی۔ بعد میں قسم کا کفارہ ادا کر لے۔  قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو پیٹ بھر دو وقت کا کھانا کھلائے یا دس مسکینوں کو کپڑے پہنائے۔ اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھتی ہو تو لگاتار تین روزے رکھے۔ ساتھ ساتھ توبہ و استغفار بھی لازم ہے۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved