- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
میرا ایک چھوٹا سا کاروبار ہے۔ میں نئے LED بلب تیار کرتا ہوں، انہیں ہول سیل میں فروخت کرتا ہوں اور ساتھ ساتھ پرانے خراب بلب بھی مرمت (ریپئر) کرتا ہوں۔میرا سوال یہ ہے کہ:1: بلب بنانا، بیچنا اور مرمت کرنا ، کیا یہ سب کام حلال کاروبار میں شمار ہوتا ہے؟2: اس کام میں نیت اور طریقۂِ کار کیا ہونا چاہیے یعنی اس کاروبار کو سنت کے مطابق اور شرعی اصولوں کے مطابق رکھنے کے لیے مجھے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟ تاکہ کاروبار باعثِ برکت بنے۔براہِ کرم تفصیلی رہنمائی فرما دیں تاکہ میں اپنا کام شریعت کے مطابق کر سکوں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
[1]: یہ کاروبار شرعاً جائز ہے اور اس کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدن حلال ہے۔[2]: ذیل میں آپ کے اس کاروبار سے متعلق شرعی و اخلاقی اصول، آداب اور شرعی ہدایات ذکر کیے جا رہے ہیں تاکہ یہ کام دائرۂ شریعت میں رہے اور باعثِ برکت بنے۔1: نیت اور مقصد کا درست ہونانیت یہ ہو کہ یہ کام حلال روزی کے حصول کے لیے کر رہا ہوں اور اس میں خدمتِ خلق کا جذبہ بھی شامل ہو کہ لوگوں کو مناسب قیمت پر درست اور کارآمد چیز فراہم کی جائے گی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”أَلتَّاجِرُ الصَّدُوْقُ الأَمِيْنُ مَعَ النَّبِيِّيْنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَاءِ“جامع الترمذی: حدیث نمبر 1209
ترجمہ: سچا اور امانت دار تاجر انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔2: سامان کا جائز ذرائع سے حصولمرمت میں استعمال ہونے والے تمام پرزے، آلات اور اشیاء جائز اور قانونی ذرائع سے حاصل کیے جائیں۔ چوری شدہ، اسمگل شدہ یا جعلی مال کو استعمال نہ کیا جائے۔3: چیز میں موجود عیب سے آگاہ کرنامرمت کے وقت اصلی خرابی اور حل کو چھپایا نہ جائے۔ اگر کسی بلب میں استعمال شدہ یا پرانا پرزہ لگایا گیا ہے تو صاف طور پر آگاہ کر دیا جائے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنَّا“ترجمہ: جس نے دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں۔جامع الترمذی: حدیث نمبر 1315
4: معیار کی ضمانت دیناچیز جس درجہ کی معیاری ہو اس معیار کو واضح کر دیا جائے۔ اگر بلب زیادہ دیر نہیں چلنے والا، یا عارضی مرمت کی گئی ہے، تو گاہک کو پہلے ہی بتا دیا جائے۔5: مناسب قیمت میں فروخت کرناقیمت واضح طور پر طے کی جائے اور اس میں ابہام یا دھوکا نہ ہو اور نفع کی شرح مناسب ہو، قیمت میں دھوکا یا جھوٹ سے کام لینا سخت گناہ ہے۔6: غلط بیانی سے اجتناب کرناہمیشہ صاف گوئی سے کام لیا جائے، بلب کے متعلق غلط تشہیر یا خلافِ حقیقت دعویٰ (مثلاً “یہ بالکل نیا ہے” یا “یہ اصل کمپنی کا ہے” وغیرہ)قطعاً نہ کیا جائے۔ اشتہار یا گفتگو میں حقیقت سے بڑھا چڑھا کر بات کرنا دھوکا شمار ہوگا۔7: قانونی تقاضوں کو پورا کرنادکان یا کاروبار سے متعلق حکومتی شرائط و ضوابط اور ہدایات پر مکمل عمل کیا جائے، قانون کی خلاف ورزی نہ کی جائے۔8: وقت کی پابندی کرنامتعین وقت میں کام کا وعدہ کیا ہو تو حسبِ وعدہ بر وقت کام مکمل کیا جائے، اگر کوئی عذر یا مجبوری پیش آ جائے تو گاہک کو ضرور اطلاع دی جائے۔9: واپسی کا حق دینااگر گاہک ضمانت یا واپسی کی شرط چاہے، تو وہ تحریری یا زبانی طور پر واضح کر دی جائے۔ گاہک کسی وجہ سے چیز واپس کرنا چاہے تو واپس لے لی جائے۔ واپسی کی صورت میں اسے پوری قیمت دی جائے، اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر قیمت میں سے کٹوتی کر لینا ناجائز اور حرام ہے۔10: ذکراللہ کا اہتمام کرناپنجگانہ نمازوں کی پابندی کے علاوہ مختلف اذکار و تسبیحات (استغفار ، درود پاک، کلمہ طیبہ) کا معمول بنایا جائے۔ صدقہ و زکوٰۃ کا اہتمام کیا جائے، اس سے مال پاک اور با برکت ہوتا ہے۔یاد رکھیں!تجارت صرف نفع کا ذریعہ نہیں بلکہ ایمان کی آزمائش بھی ہے۔اس لیے اپنے ایمان و اعمال کی سلامتی کا ہر حال میں خیال رکھا جائے۔ دیانت داری ، سچائی اور تقویٰ ایمان کی سلامتی اور رزق میں برکت کا ذریعہ ہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved