• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

فرض نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کا ثبوت

استفتاء

کیا فرض نماز کے بعدہاتھ اٹھا کر دعا کرنا ثابت ہےیا بدعت ہے؟ اگر ثابت ہے تو دلیل بھیج دیجیے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

فرض نمازوں کے بعد  ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اورسلَفِ صالحین رحمہم اللہ سے ثابت ہے،  احادیث و آثار اس پر موجود ہیں ، یہ دعا آہستہ آواز سے کرنا افضل ہے، البتہ تعلیم کی غرض سے  کبھی کبھار امام  بلند آواز سے بھی دعا کرا سکتا ہے۔لیکن  اسے سنتِ مستمرہ دائمہ کہنا مشکل ہے،  اس لیے اس بارے میں معتدل رویہ اختیار کرنا ضروری ہے، نہ تو اسے بدعت کہنا اور اس پر نکیر کرنا  کسی طرح درست ہے، اور نہ ہی اس میں شدت  کا پہلو اختیار کرتے ہوئے اس کو ضروری اورلازم سمجھ   کر عمل کرنا اور نہ کرنے والوں پرطعن وتشنیع کرنا  روا ہے۔ چند دلائل حسبِ ذیل ہیں۔
(1) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی قبولیت کے مختلف اوقات ذکر فرمائے جن میں فرض نمازوں کے بعد کے اوقات کو بھی ذکر فرمایا۔ حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں: 
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:”مَنْ صَلَّى صَلاةَ فَرِيضَةٍ فَلَهُ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ، وَمَنْ خَتَمَ الْقُرْآنَ فَلَهُ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ” 
  المعجم  الکبیر  للطبرانی رقم الحدیث : 15050
ترجمہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے  ارشاد فرمایا : جو آدمی کوئی فرض نماز پڑھے (اس کے بعد دل سے دعا کرے ) تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے اورجو آدمی قرآن مجید ختم کرے اور دعا کرے  تو اس کی بھی دعا قبول ہوتی ہے۔ 
(2) حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ  روایت کرتے ہیں :
قيل لِرسولِ اللهِ  صلى الله عليه وسلم – : أيُّ الدُّعاءِ أَسْمَعُ ؟ قَالَ : (( جَوْفَ اللَّيْلِ الآخِرِ ، وَدُبُرَ الصَّلَواتِ المَكْتُوباتِ ))
(سنن الترمذی، حدیث نمبر:3499)
ترجمہ:
عرض کیا گیا  “یا  رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم” کس وقت کی دعا زیادہ مقبول ہوتی ہے؟ جواب میں آپ نے ارشاد فرمایا: رات کے آخری حصہ کی دعا اور فرض نمازوں کے بعد کی دعا۔
(3) حضرت محمد بن ابی یحییٰ  رحمہ اللہ روایت فرماتے ہیں: 
رَأْيَتُ عَبْدَ اللَّهِ بن الزُّبَيْرِ، وَرَأَى رَجُلًا رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو قَبْلَ أَنْ يَفْرَغَ مِنْ صَلاتِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْهَا، قَالَ:”إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَرْفَعُ يَدَيْهِ، حَتَّى يَفْرَغَ مِنْ صَلاتِهِ” 
(المعجم الكبیر للطبرانی : رقم الحدیث: 90)
ترجمہ:
میں نے حضرت عبد اللہ بن  زبیر  رضی اللہ عنہ کو دیکھا  ،انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ  وہ نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہی ہاتھ اٹھا کر دعا کررہا تھا تو جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو  حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم  جب تک نماز سے فارغ نہ ہوتے  اس وقت تک (دعا کے لیے) ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے  (لہٰذا تم بھی ایسا ہی کرو)
(اس حدیث مبارک  سے نماز کے بعد دعا کرنا اور  دعا میں ہاتھ اٹھانا دونوں چیزیں ثابت ہوئیں ۔)
(4) حضرت عَمرو بن میمون الاَودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 
كَانَ سَعْدٌ يُعَلِّمُ بَنِيهِ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ كَمَا يُعَلِّمُ الْمُعَلِّمُ الْغِلْمَانَ الْكِتَابَةَ وَيَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْهُنَّ دُبُرَ الصَّلَاةِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْجُبْنِ وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَحَدَّثْتُ بِهِ مُصْعَبًا فَصَدَّقَهُ”
(صحیح البخاری، حدیث نمبر: 2822)
ترجمہ:
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنے بیٹوں کو یہ کلمات  اس قدر اہتمام سے  سکھاتے تھے جیسے استاذ اپنے شاگردوں کو لکھنا پڑھنا سکھاتا ہے، اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ یہ فرمایا کرتے کہ ان کلمات  کے ذریعے سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب فرمایا کرتے تھے۔   اے اللہ! میں بخل  اور ناکارہ عمر کی طرف لوٹ جانے سے  آپ سے پناہ چاہتا ہوں، اور میں آپ سے دنیاوی فتنوں اور قبر کے عذاب سے(بھی) پناہ چاہتا ہوں۔ حضرت عَمرو بن میمون الاَودی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے حضرت مُصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو یہ واقعہ بیان کیا تو انہوں نے اس  کی تصدیق فرمائی۔ 
(5) امام حافظاحمد بن علی  بن حجر العسقلانی  رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 
( قوله باب الدعاء بعد الصلاة ) 
“أي المكتوبة وفي هذه الترجمة رد على من زعم ان الدعاء بعد الصلاة لا يشرع”
(فتح الباری شرح صحیح البخاری، کتاب الدعوات، باب الدعاء بعد الصلوٰۃ)
ترجمہ:
امام  محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ کا یہ قول کہ “یہ  باب  نماز کے بعد دعا کرنے سے متعلق ہے”   یعنی فرض نماز کے بعد دعا کے بارے میں ہے۔ اور  امام بخاری رحمہ اللہ  کا یہ باب قائم کرنے سے مقصد ان لوگوں کا رد کرنا  ہے جن کا گمان یہ ہے کہ نماز کے بعد کرنا مشروع نہیں ہے۔ 
(6) امام  محی الدين يحیٰ  بن شرف النووی رحمہ اللہ (ت: 676ھ)فرماتے ہیں:
ولا فرق في استحباب هذا الدعاء بين الامام والمأموم والمنفرد” 
ترجمہ:
اس دعا کے مستحب  ہونے میں  امام، مقتدی اور منفرد کے درمیان کوئی فرق نہیں ۔ (سب کے لیے نماز کے بعد دعا کرنا مستحب ہے)
(المجموع شرح المہذب:ج3ص469)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved