- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ہمارے ہاں دستور یہ ہے کہ ایک قبر کو اگر کسی نے نہیں خریدا ہوتا تو پانچ سال بعد اس میں دوسری میت کو دفن کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں یہی ہوتا ہے کہ ایک میت کی تدفین کے کچھ مدت بعد دوسری میت کو اسی قبر میں دفن کر دیتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ ایک قبر میں میت کی تدفین کے کتنے عرصے بعد دوسری میت کو اس میں دفن کیا جا سکتا ہے؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً احسن الجزاء۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
امام فخر الدين عثمان بن علی الزيلعی الحنفی (ت: 743 ھ) لکھتے ہیں:
“وَلَوْ بَلِيَ الْمَيِّتُ وَصَارَ تُرَابًا جَازَ دَفْنُ غَيْرِهِ فِيْ قَبْرِهِ وَزَرْعُهُ وَالْبِنَاءُ عَلَيْهِ”
(تبیین الحقائق شرح كنز الدقائق: ج1 ص 589)
ترجمہ:
اگر میت بوسیدہ ہو جائے اور (اس کے اجزاء) مٹی میں مِل چکے ہوں تو اس کی جگہ دوسری میت کو دفن کرنا، اور اس جگہ پر کھیتی کاشت کرنا اور عمارت بنانا جائز ہے۔
علامہ محمد امین بن عمر ابن عابدین الشامی رحمہ اللہ(ت:1252ھ) لکھتے ہیں۔
وَلَا يُحْفَرُ قَبْرٌ لِدَفْنِ آخَرَ إلَّا إنْ بَلِيَ الْأَوَّلُ فَلَمْ يَبْقَ لَهُ عَظْمٌ. إلَّا أَنْ لَّا يُوجَدَ فَتُضَمُّ عِظَامُ الْأَوَّلِ وَيُجْعَلُ بَيْنَهُمَا حَاجِزٌ مِنْ تُرَابٍ.
(حاشیہ ابنِ عابدین: مطلب فی دفن المیت، ج3 ص 163)
ترجمہ:
اور دوسری مرتبہ دفن کرنے کے لیے (پہلی) قبر کو نہ کھودا جائے، ہاں اگر پہلی میت بوسیدہ ہو چکی ہو اور اس کی ہڈیاں باقی نہ رہی ہوں، (تب دوسری میت کی تدفین جائز ہے، اسی طرح) اگر تدفین کے لیے کوئی جگہ میسّر نہ ہو تو پہلی میت کی ہڈیاں اسی قبر میں دفن کر دی جائیں اور دونوں کے درمیان مٹی کی آڑ بنا دی جائے۔
امام احمد بن محمد بن اسماعيل الطحطاوی الحنفی رحمہ اللہ (ت: 1231 ھ) لکھتے ہیں:
“وَسُئِلَ أَبُوْ بَكْرِ الْأَسْكَافِيُّ عَنِ الْمَرْأَةِ تُقْبَرُ فِيْ قَبْرِ الرَّجُلِ فَقَالَ: إِنْ كَانَ الرَّجُلُ قَدْ بَلِىَ وَلَمْ يَبْقَ لَہٗ لَحْمٌ وَلَا عَظْمٌ جَازَ وَكَذَا الْعَكْس وَإِلَّا فَإِنْ كَانُوْا لَا يَجِدُوْنَ بُدًّا يَجْعَلُوْنَ عِظَامَ الْأَوَّلِ فِيْ مَوْضِعٍ وَلِيَجْعَلُوْا بَيْنَهُمَا حَاجِزًا بِالصَّعِيْدِ”
(حاشیۃ الطحطاوی على مراقی الفلاح: فصل فی حملھا و دفنھا، ج1 ص613)
ترجمہ:
امام ابوبکر اَسکافی رحمہ اللہ سے یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ کیا عورت کو مرد کی قبر میں دفن کیا جا سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: اگر مرد میت کے اجزاء بوسیدہ ہو چکے ہوں اور اس کا گوشت پوست باقی نہ رہا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے، اور (مذکورہ شرط کے ساتھ) اس کی برعکس صورت بھی جائز ہے، (عورت کی قبر میں مرد کی تدفین)۔ ہاں اگر میت کے لواحقین کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہو تو وہ پہلی میت کے اجزاء کو (احترام کے ساتھ اکٹھا کر کے اسی قبر میں) کسی حصے میں دفن کر دیں اور ان دونوں کے درمیان مٹی کی آڑ بنا دیں۔
فقہاء کرام رحمہم اللہ کی درج بالا تصریحات سے معلوم ہوا کہ:
(1) اگر یقین یا ظن غالب ہو کہ پہلی میت کے اجزاء بوسیدہ ہو کر خاک آلود ہو چکے ہوں گے تو دوسری میت کی تدفین مطلقاً جائز ہے۔
(2) پہلی میت کے اجزاء کے موجود ہونے کا یقین یا غالب گمان ہو تو عام حالات میں دوسری میت دفن نہ کی جائے۔
(3) پہلی میت کے اجزاء کے موجود ہونے کا یقین یا غالب گمان ہو مگر دوسری میت کی تدفین کی کوئی الگ جگہ میسّر نہ ہو تو اس مجبوری اور اضطراری حالت میں اسی قبر میں تدفین کی اجازت ہے ، مگر دوسری میت اور پہلی میت کے کل یا بعض اجزاء کے درمیان آڑ بنا دی جائے۔
(4)شریعت مبارکہ کی طرف سے ایک قبر میں دوسری میت کی تدفین کے لیے کوئی خاص مدت متعین نہیں کی گئی، بلکہ یہ چیز ہر علاقے کے اَحوال ، موسم اور اس کی مٹی کے اثرات پر منحصر ہے۔ کئی علاقے گرم ہوتے ہیں ، اس کی گرمی یا مٹی کے اثرات کی وجہ سے میت کے اجزاء مٹی میں جلد(کچھ ایام یا ماہ میں) تحلیل ہو جاتے ہیں، اور کئی علاقے سرد ہوتے ہیں تو اجزاء کی تحلیل والا عمل کئی برسوں پر محیط ہو جاتا ہے، اس لیے اجزاء کے بوسیدہ ہونے اور گوشت پوست کے ختم ہونے کی کوئی ایک مدت متعین نہیں کی گئی ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved