• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

بدعت کے جواز پر پیش کی جانے والی دو اَحادیث کا جواب

استفتاء

جب ہم کسی بریلوی سے بدعت کے بارے میں مثلاً عید میلاد النبی، جنازے کے بعد دعا اور اسی طرح اور مسائل میں بات کرتے تو وہ لوگ یہ حدیث پاک ” من سن فی الاسلام سنۃ حسنۃ فعمل بھا بعدہ کتب لہ مثل اجر من عمل بھا ولا ینقص من اجور ھم شیئ ” پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں یہ طریقہ اچھا ہے اور مزید یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہوسکتی تو کیا ہم اتنے لوگ گمراہی پر ہیں؟ ۔ براہِ کرم بدعت کے حوالے سے تفصیلی رہنمائی فرمائیے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

سوال میں مذکوراحادیث مبارکہ کو  بدعت کے جواز میں پیش کرنا قطعاً درست نہیں، تفصیل حسبِ ذیل ہے:
(1) پہلی حدیث پاک الفاظ کے معمولی تغیّر کے ساتھ بہت ساری کتبِ احادیث میں موجود ہے، حضرت جریر بن عبد اللہ  رضی اللہ عنہما اس کے راوی ہیں، یہ حدیث پاک  ذراطویل ہے ،  آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشادِ گرامی ہے:
” مَنْ سَنَّ فِي الإِسْلاَمِ سُنَّةً حَسَنَةً ، أَوْ صَالِحَةً فَاسْتُنَّ بِهَا بَعْدَهُ ، كَانَ لَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ ، لاَ يَنْتَقِصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا ، وَمَنْ اسْتَنَّ فِي الإِسْلاَمِ سُنَّةً سَيِّئَةً فَاسْتُنَّ بِهَا بَعْدَهُ ، كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُه وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ ، لاَ يَنْتَقِصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا”۔
(مصنَّف ابن ابی شیبہ: حدیث نمبر9896 )
ترجمہ: جس نے اسلام میں کوئی نیک یا اچھا  طریقہ جاری کیا ، اور بعد میں  اس  طریقہ حسنہ پر عمل کیا گیا تو اس کو اپنے اجر کے ساتھ بعد میں عمل کرنے والوں کا اجر بھی ملے گا، اور ان (بعد والوں)کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ اور جو شخص اسلام میں کوئی بُرا طریقہ جاری کرے اور بعد میں اس  بُرے طریقے پر عمل کیا جائے تو اس پر اپنا گناہ بھی ہو گا اور بعد والوں کا گناہ بھی ہو گا، اور ان (بعد والوں)کے گناہوں  میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔
(2) حدیث بالا میں سنت حسنہ اور سنت سیئہ سے کیا مراد ہےاور  کون سا طریقہ یا کام سنتِ حسنہ میں داخل ہے اور کون سا سنتِ سیئہ کا حصہ ہے؟ یہ عقدہ تب  تک نہیں کھل سکتا  جب تک بدعت، سنتِ حسنہ اور سنتِ سیئہ کی تعریفات  کا علم نہ ہو جائے۔ چنانچہ ذیل میں دو  عبارات نقل کی جاتی ہیں جن سے بدعت، سنتِ حسنہ اور سنتِ سیئہ کی تعریفات  اور ان کے مابین فرق واضح ہو جائے گا ۔ 
:1 استاذ محترم امام اہل السنۃ شیخ التفسیر والحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ (ت:1430)تحریر فرماتے ہیں:
” بدعتِ  حَسنہ وہ دینی کام جس کا مانع آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ  علیہ وسلم کے بعد زائل ہو گیا ہو ، یا اس کا داعیہ، محرّک اور سبب بعد کو پیش آیا ہو اور کتاب وسنت اور اجماع و قیاس سے اس پر روشنی پڑتی ہو اور ان میں سے کسی دلیل سے اس کا ثبوت ملتا ہو تو وہ بدعت حسنہ اور بالفاظ دیگر لغوی بد عت ہو گی جو مذموم نہیں ہے ۔ علامہ ابن رجب رحمہ اللہ وغیرہ کی عبارتیں نقل کی جاچکی ہیں جو اس پر صراحت سے دلالت کرتی ہیں ۔ اور جس چیز کا محرک اور داعیہ اور سبب آنحضرت صلی اللہ تعالی ٰ علیہ وسلم کے زمانۂ مبارک میں موجود تھا مگر آپ نے وہ دینی کام نہیں کیا اور حضرات صحابہ کرام اور تابعین وتبع تابعین نے بھی با وجود کمال عشق و محبت اور محرکات و اسباب کے نہیں کیا تو وہ کام بدعتِ قبیحہ اور بدعتِ سیئہ اور بدعت شرعیہ کہلائے گا،  جو ہر حالت میں مذموم اور ضلالت و  گمرا ہی ہوگا۔ باقی غیر مجتہد کا اجتہاد خصوصاً اس زمانہ میں ہرگز کسی بدعت کو حَسنہ نہیں قرار دے سکتا۔چنانچہ حضرات فقہاء ِ کرام رحمہم اللہ نے اس کی تصریح کی ہے، در نصاب الفقہ می آرند ہر آنچہ بدعت حسنہ مجتہداں قرار داده اند ہماں صحیح است و اگر کسے دریں زمانہ  چیزے بدعت حسنہ قرار دہد خلاف است زیرا کہ درمصفّٰی میگوید کہ “کل بدعۃ ضلالۃ فی زماننا” (انتہی) (فتاوی جامع الروايات – والجنہ ص 60) ۔ 
“یعنی نصاب الفقہ میں ہے کہ بدعت حسنہ وہ ہے جس کو حضرات مجتہدین نے بدعت حسنہ قرار دیا ہو۔ اور اگر کوئی شخص اس زمانہ میں کسی چیز کو بدعت حسنہ قرار دے گا تو وہ حق کے خلاف ہے کیونکہ مصفّٰی میں ہے کہ ہمارے زمانہ میں ہر بدعت گمراہی ہے”۔
اس عبارت سے صراحت کے ساتھ یہ بات واضح ہوگئی کہ بدعت حسنہ صرف وہی ہو گی جس میں حضرات مجتہدین کا اجتہادکار فرما ہوگا، اور اجتہاد و قیاس صرف ان احکام اور مسائل میں ہی ہوسکتا ہے جو غیر منصوص ہوں اور ان کے دواعی اور اسباب آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم  اور خیرالقرون میں موجود نہ ہوں بلکہ بعد کو ظہور پذیر ہوئے ہوں ۔ اس نئی تہذیب کے زمانہ میں جوشخص بدعت کو حسنہ قرار دیتا ہے ، اس کا قول سراسر باطل اور مردود ہے ۔ اور ایسی چیز کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ
اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے 
 اور یہی وہ بدعت ہے جس کے متعلق حضرت مجددالف ثانی رحمۃ اللّٰہ علیہ (وغیرہ) فرماتے ہیں کہ “چیزے کہ مردود  باشد حُسن از کجا پیدا کند” (مکتوبات حصہ سوم ص72) 
“یعنی جو چیز مردودہے وہ حسن اور خوبی کہاں سے پیدا کرے گی ؟
(راہِ سنت: ص101،100)
:2 مفتی اعظم پاکستان  مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ(ت:1396)   نے ایک رسالہ بنام “سنت و بدعت” تحریر فرمایا، آپ رحمہ اللہ اس میں لکھتے ہیں: 
 بدعت کی تعریف:
” اصل لغت میں بدعت ہر نئی چیز کو کہتے ہیں ، خواہ عبادات سے متعلق ہو، یا عادات سے، اور اصطلاح شرع میں ہر ایسے نو ایجادطریقۂ عبادت کو بدعت کہتے ہیں، جو زیادہ ثواب حاصل کرنے کی نیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین کے بعد اختیار کیا گیا ہو ۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے عہد مبارک میں اس کا داعیہ اور سبب موجود ہونے کے باوجود نہ قولاً ثابت ہو ، نہ فعلاً نہ صراحۃً  نہ اشارۃً ۔  بدعت کی یہ تعریف” علامہ برکوئی”  کی کتاب ’’الطریقہ المحمد یہ اور علامہ شاطبی کی کتاب “الاعتصام”  سے لی گئی ہے ۔
اس تعریف سے معلوم ہوا کہ عادات اور دنیوی ضروریات کے لئے جو نئے نئےآلات اور طریقے روزمرہ ایجاد ہوتے رہتے ہیں ان کا شرعی بدعت سے کوئی تعلق نہیں ، کیونکہ وہ بطور عبادت اور بہ نیت ثواب نہیں کئے جاتے ۔ یہ سب جائز اور مباح ہیں ، بشرطیکہ وہ کسی شرعی حکم کے مخالف نہ ہوں ۔ نیز یہ بھی معلوم ہو گیا کہ جو عبادت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام سے قولا ً ثابت ہو یا فعلاً،  صراحتاً  یا اشارۃً،  وہ بھی بدعت نہیں ہوسکتی۔
 نیز یہ بھی معلوم ہو گیا کہ جس کام کی ضرورت عہد رسالت میں موجود نہ تھی ، بعد میں کسی دینی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے پیدا ہوگئی ، وہ بھی بدعت میں داخل نہیں ۔ جیسے مروجہ مدارس اسلامیہ اور تعلیمی تبلیغی انجمنیں اور دینی نشر واشاعت کے ادارے اور قرآن و حدیث سمجھنے کے لئے صرف و نحو اور ادب عربی اور فصاحت و بلاغت کے فنون یا مخالف اسلام فرقوں کا رد کرنے کے لئے منطق اور فلسفہ کی کتابیں یا جہاد کے لئے جدید اسلحہ اور جدید طریق جنگ کی تعلیم وغیرہ کہ یہ سب چیز یں ایک حیثیت سے عبادت بھی ہیں ۔  اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے عہد میں موجود بھی  نہ تھیں ، مگر پھر بھی ان کو بدعت اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ ان کا سبب داعی اور ضرورت اس عہد مبارک میں موجود نہ تھی ۔ بعد میں جیسی جیسی ضرورت پیدا ہوتی گئی علماء امت نے اس کو پورا کرنے کے لئے مناسب تدبیریں اور صورتیں اختیار کر لیں ۔
اس کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ سب چیزیں نہ اپنی ذات میں عبادت ہیں ، نہ کوئی ان کو اس خیال سے کرتا ہے کہ ان میں زیادہ ثواب ملے گا۔ بلکہ وہ چیزیں عبادت کا ذریعہ اور مقدمہ ہونے کی حیثیت سے عبادت کہلاتی ہیں ۔ گویا یہ “احداث فی الدین”  نہیں بلکہ ’’ احداث للدین ‘‘ ہے۔ اور احادیث میں ممانعت “احداث فی الدین”  کی آئی ہے “احداث للدین ” کی نہیں ۔ یعنی کسی منصوص دینی مقصد کو پورا کرنے کے لئے بضر ورت زمان و مکان کوئی نئی صورت اختیار کر لینا ممنوع نہیں ۔
اس تفصیل سے یہ معلوم ہو گیا کہ جن کاموں کی ضرورت عہد رسالت میں اور زمان مابعد میں یکساں ہے، ان میں کوئی ایسا طریقہ ایجاد کرنا ، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام سے ثابت نہیں ، اس کو بدعت کہا جائے گا۔ اور یہ ازروئے  قرآن وحدیث ممنوع ونا جائز ہوگا ۔
مثلاً درود وسلام کے وقت کھڑے ہو کر پڑھنے کی پابندی، فقراء کوکھانا کھلا کر ایصال ثواب کرنے کے لئے کھانے پر مختلف سورتیں پڑھنے کی پابندی ، نماز با جماعت کے بعد پوری جماعت کے ساتھ کئی کئی مرتبہ دعا مانگنے کی پابندی ، ایصال ثواب کے لئے تیجہ، چہلم وغیرہ کی پابندی، رجب وشعبان وغیرہ کی متبرک راتوں میں خود ایجادقسم کی نمازیں اور ان کے لئے چراغاں وغیرہ اور پھر ان خود ایجاد چیزوں کو فرض و واجب کی طرح سمجھنا، ان میں شریک نہ ہونے والوں پر ملامت اور لعن طعن کرنا وغیرہ۔
ظاہر ہے کہ درود وسلام ،صدقہ خیرات ، اموات کو ایصال ثواب ،متبرک راتوں میں نماز وعبادت ، نمازوں کے بعد دعاء  ، یہ سب چیز یں عبادات ہیں ، ان کی ضرورت جیسے آج ہے ایسے ہی عہد صحابہ کرام میں بھی تھی۔ان کے ذریعہ ثواب آخرت اور رضائے الٰہی حاصل کرنے کا ذوق وشوق جیسے آج کسی نیک بندے کو ہو سکتا ہے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کو ان سب سے زائد تھا۔کون دعویٰ  کر سکتا ہے کہ اس کو صحابہ کرام سے زائد ذوق عبادت اور شوق رضاءالٰہی حاصل ہے ۔ حضرت حذیفہ بن یمان فرماتے ہیں کہ:
“كل عبادة لم يتعبدها اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فلا تعبدوها فان الاول لم يدع للآخر مقالاً فاتقوا الله يامعشر المسلمين وخذوا بطريق من كان قبلكم”
(اعتصام للشاطبی: ج1ص310) 
 یعنی جو عبادت صحابہ کرام نے نہیں کی ، وہ عبادت نہ کرو ۔ کیونکہ پہلے لوگوں نے پچھلوں کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑی ، جس کو یہ پورا کریں ۔ اے مسلمانو! خدا تعالیٰ سے ڈرواور پہلے لوگوں کے طریقے کو اختیار کرو ۔ اور اسی مضمون کی روایت حضرت عبداللہ بن مسعود سے بھی منقول ہے” ۔
(جواہر الفقہ ج 1 ص 358 تا 360)
(3) دوسری  حدیث پاک  کہ” میری امت ضلالت و گمراہی پر جمع نہیں ہو گی ”  کو بھی   بدعت کے جواز میں بطور دلیل پیش کرنا  درست نہیں، پوری حدیث پاک یہ ہے،     حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 
“إن أمتي لا تجتمع على ضلالة . فإذا رأيتم اختلافا فعليكم بالسواد الأعظم” 
(سنن ابن ماجہ: حدیث نمبر3950)
ترجمہ: بلاشبہ میری امت ضلالت و گمراہی پر جمع نہیں ہو گی، پس جب تم (کسی معاملے میں ) کوئی اختلاف دیکھو تو  (میری امت میں سے) سوادِ اعظم کی بات پر عمل کرو۔ 
  اس حدیث مبارک میں “اُمَّتی” سے عام افراد مراد نہیں ہیں، بلکہ اہلِ علم کا ایسا طبقہ مراد ہے جو   علوم شریعت اور سلوک و طریقت کا جامع ہو یعنی  سنت پر عمل پیرا ہو اور بدعت سے کوسوں دور ہو، ایسے طبقے کو “سوادِ اعظم” سے موسوم کیا گیا ہے، اور اختلاف کے وقت ان کی  طرف رجوع کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔
مفسرِ قرآن امام ابو اسحاق احمد بن محمد بن ابراہیم الثعلبی رحمہ اللہ (ت: 427 ھ)  آیتِ کریمہ “اھدنا الصراط المستقیم”  کی تفسیر میں لکھتے ہیں: 
“قال عبد العزيز بن يحيى : يعني طريق السواد الأعظم . وقال ] أبو بكر الورّاق : يعني صراطاً لا تزيغ به الأهواء يميناً وشمالا . وقال محمد بن علي النهدي : يعني طريق الخوف والرجاء . وقال أبو عثمان الداراني : [ يعني ] طريق العبودية .
وسمعت أبا القاسم الحسن بن محمد يقول : سمعت أبا نصر منصور بن عبد الله بهرات يقول : سمعت أبا الحسن عمر بن واصل العنبري يقول : سمعت [ سهل ] بن عبد الله التستري يقول : طريق السنّة والجماعة لأن البدعة لا تكون مستقيمة.”
(الکشف والبیان فی تفسیر القرآن: ج1 ص48  دارالکتب العلمیہ)
ترجمہ: امام عبدالعزیز بن یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صراطِ مستقیم سے سوادِ اعظم کا  راستہ مراد ہے، امام ابوبکر الورّاق  رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یعنی ایسا سیدھا راستہ مراد ہے جس پہ چلتے ہوئے دل دائیں بائیں بھٹکنے نہ پائیں۔ امام محمد بن علی النہدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امید و خوف کا اور امام ابو عثمان الدارانی رحمہ اللہ کے مطابق عبودیت کا راستہ مراد ہے۔  اور حضرت امام عبداللہ تستری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ  صراط مستقیم(جو کہ سوادِ اعظم کا طریق ہے)  سے مراد ایسا راستہ ہے جس پہ اہل السنت والجماعت کاربند ہوں کیوں کہ بدعت کا راستہ سیدھا نہیں ہوتا۔ 
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved