- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ہم نے ایک پراپرٹی کا سودا کیا تھا، ٹوکن کے طور پر کہ بات زبان پکی ہوگئی، اس لیے ہم نے ایک طے شدہ رقم دوسری پارٹی کو دے دی۔ اب جب مقررہ تاریخ پر بیعانہ کرنے کے لیے ہم گئے تو وہ پارٹی گھر بیچنے سے مکر گئی ہے۔ اور انہوں نے ہمارے ٹوکن کے ساتھ اتنی ہی رقم اور ہمیں دے دی اور بات ختم کردی۔ کیوں کہ معاشرے میں مارکیٹ کا یہ اصول ہے کہ بیعانہ ہو یا ٹوکن، اگر ایک پارٹی مکرجائے تو دوسری پارٹی کو ٹوکن پر ٹوکن ڈبل کر کے واپسی کرے گی۔
دریافت یہ کرنا ہے کہ یہ اصل ٹوکن کی رقم کے اوپر جو اضافی رقم انہوں نے دی ہے، کیا یہ ہمارے لیے حلال ہے ؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیراً۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
یاد رکھیے کہ مشتری (خریدار) کی طرف سے معاملہ سے انکار کی صورت میں بیعانہ کی رقم ضبط کر لینا اور بائع(بیچنے والا) کی طرف سے عقد سے رجوع کرنے پر بیعانہ کی رقم دوگنی واپس لینا شرعاً ناجائز ہے۔ اس لیے دوسری پارٹی کی طرف سے دی گئی اضافی رقم کا استعمال آپ کے لیے حلال نہیں ہے، یہ اضافی رقم مالک کو واپس کرنا ضروری ہے، اگر وہ فوت ہو گیا ہو تو ان کے ورثا کے حوالہ کر دیں۔ واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved