• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

مہرِ نبوّت کیسی تھی اور حجم کتنا تھا؟

استفتاء

میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہرِ نبوت کس شکل کی تھی اور اس کا سائز کتنا تھا؟ نیز یہ بھی بتا دیجیے کہ مہر نبوت پہ کیا تحریر ثبت تھی اور یہ پیدائشی طور پر تھی یا بعد میں نمودار ہوئی تھی؟ اس کے علاوہ مہرِ نبوت سے متعلق کچھ اور معلومات بھی عنایت فرما دیں تو کمال شفقت ہو گی۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

میری کتاب “زبدۃ الشمائل” میں مہرِ نبوت سے متعلق کافی تفصیل موجود ہے جو ذیل میں درج کی جاتی ہے۔زبدۃ: مہرِ نبوت کے بارے میں چند باتیں قابلِ لحاظ ہیں:
1: بعض محدثین فرماتے ہیں کہ مہر نبوت پیدائشی تھی اور بعض محدثین فرماتے ہیں کہ جب پہلی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ مبارک چاک کیا گیا تو اس وقت مہر نبوت بھی بنا دی گئی۔2: بعض محدثین فرماتے ہیں کہ مہر نبوت پر”محمد رسول اللہ “لکھا ہوا تھا اور بعض محدثین فرماتے ہیں کہ مہر نبوت پر ”سِرْ فَاَنْتَ الْمَنْصُوْرُ“ لکھا ہوا تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ تم جہاں بھی رہو گے تمہاری مدد کی جائے گی۔3: حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت کی ہیئت اور مقدار کیا تھی اور اس کا رنگ کیا تھا؟ اس بارے میں مختلف روایات مروی ہیں: حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کی روایت کے الفاظ یوں ہیں:
فَإِذَا هُوَ مِثْلُ زِرِّ الْحَجَلَةِ.کہ وہ چکور کے انڈے جیسی تھی۔ چکور کا انڈہ مرغی کے انڈے سے ذرا چھوٹا اور کبوتری کے انڈے سے ذرا بڑا ہوتا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ جس طرح مسہری کی چادر کے ساتھ لٹکنے والی گھنڈی ہوتی ہے جو کبوتر کے انڈے کے برابر بیضوی شکل میں ہوتی ہے مہرِ نبوت بھی اسی کی مانند تھی۔ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے الفاظ یوں ہیں:
غُدَّةً حَمْرَاءَ مِثْلَ بَيْضَةِ الْحَمَامَةِ.یعنی مہر ِنبوت سرخ رسولی جیسی تھی اور مقدار میں کبوتر کے انڈے کے برابر تھی۔ حضرت ابو زید عمر بن اخطب انصاری رضی اللہ عنہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:
شَعَرَاتٌ مُجْتَمِعَاتٌ.یعنی چند بالوں کا مجموعہ تھا۔ حضرت ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:
كَانَ فِي ظَهْرِهِ بَضْعَةٌ نَاشِزَةٌ.آپ کی پشت مبارک پر گوشت کا ٹکڑا ابھرا ہوا تھا ۔ حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:
عَلَى كَتِفَيْهِ مِثْلَ الْجُمْعِ حَوْلَهَا خِيلاَنٌ كَأَ نَّهَا ثَآلِيلُ.یعنی مہرِ نبوت آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان مٹھی کی طرح تھی جس کے چاروں طرف تل تھے جو مسوں کے برابر تھے۔ان تمام روایات کا خلاصہ اور زبدہ یہ ہے کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پر دونوں کندھوں کے درمیان گوشت کا ابھرا ہوا ایک بیضہ نما (انڈے کی طرح)حصہ تھا اور اس پر بال بھی تھے۔مذکورہ روایات میں اختلاف کوئی حقیقی اختلاف نہیں کیونکہ یہ سب تشبیہات ہیں اور تشبیہ ہر شخص کے اپنے ذہن کے موافق ہوتی ہے جو کہ تقریبی حالت ہوتی ہے اور تقریب کے اختلاف میں اشکال نہیں ہوتا۔علامہ قرطبی علیہ الرحمۃ فر ماتے ہیں کہ مہرِ نبوت مقداراور رنگ میں مختلف ہوتی رہتی تھی اور کم زیادہ بھی ہوتی رہتی تھی۔(حاشیۃ جمع الوسائل: ج1 ص72، ص73)3: حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات مبارکہ میں جب بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کو شک ہوا تو حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے مہرِ نبوت کے نہ ہونے سے وصال پر استدلال کیا تھا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مہر نبوت وفات مبارکہ پر ختم ہو گئی تھی۔(حاشیۃ جمع الوسائل: ج1 ص70)واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved