استفتاء
عرض یہ ہے کہ آپ نے رمضان المبارک میں جو اعتکاف کورس بھیجا تھا اس میں وسیلے کا بھی مختصر بیان تھا۔ اس میں آپ نے ”المعجم الصغیر للطبرانی جلد 1 صفحہ 183“ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی تھی:
” ایک شخص حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس ایک کام کے سلسلے میں آیا جایا کرتا تھا اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ (غالباً کسی مصروفیت کی وجہ سے) نہ تو اس کی طرف توجہ فرماتے اور نہ ہی اس کی حاجت براری کرتے۔ وہ شخص حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے ملا اور اس کی شکایت کی تو انھوں نے فرمایاکہ وضو کی جگہ جاؤ اور وضو کرو، پھر مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑھو، پھر یہ دعا کرو: اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ. (اے اللہ!میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے وسیلہ سےجونبی الرحمۃ ہیں ،تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں)“اس حدیث پر ایک شخص نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس حدیث میں راوی عَنْ سے روایت کر رہے ہیں اور سماع کی تصریح نہیں ہے۔ لہذا یہ حدیث ضعیف ہے۔
برائے مہربانی اس اعتراض کا جواب عنایت فرما دیں۔ جزاک اللہ خیرا
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
ان صاحب سے درج ذیل امور کی وضاحت پوچھیں!
اس روایت میں کون سا راوی ہے جس کی ”عَنْ“سے بیان کردہ روایت قابلِ قبول نہیں؟ اس راوی کی تعیین کر کے محدثین سے اس کی ”عَنْ“والی روایت کا ضعیف ہونا نقل کریں۔
جس راوی پر ان صاحب کو اعتراض ہے وہ مدلسین کے کس طبقہ کا ہے؟ اس کے طبقہ کی تعیین کتب اسماء الرجال سے کریں!
کیا ثقہ محدثین نے اس روایت کو ”عَنْ“ کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے یا صرف یہ انہی صاحب کا دعویٰ ہے؟ اگر محدثین نے اس روایت کو ”عَنْ“ کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے تو چند محدثین کا حوالہ دیں!
چونکہ ان صاحب کا اعتراض مجمل ہے، اس لیے ان امور کی وضاحت کے بعد ہی اس اعتراض کا جواب دیا جائے گا۔
[۲]: یہ روایت المعجم الصغیر للطبرانی کے ساتھ ساتھ دیگر کتبِ احادیث مثلاً سنن ابن ماجۃ، مسند احمد بن حنبل، السنن الكبرىٰ للنسائی ، المستدرك علی الصحیحین للحاکم ، التاریخ الکبیر للبخاری وغیرہ میں بھی موجود ہے۔ اس روایت کو درج ذیل محدثین وغیرہ نے صحیح قرار دیا ہے:
[1]: امام محمد بن یزید بن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ (ت273 ھ)نے اس حدیث کو نقل کر کے فرمایا:
قال أبو إسحاق هذا حديث صحيح.
ترجمہ: امام ابو اسحاق نے کہاکہ یہ حدیث صحیح ہے۔
[2]: امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ بن سورۃ الترمذی (م279 ھ)فرماتے ہیں:
هذا حديث حسن صحيح.
ترجمہ: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
[3]: امام ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ الحاکم (ت 405ھ)اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں:
هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ.
ترجمہ: یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے تخریج نہیں کیا۔
[4]: علامہ تقی الدین احمد بن عبدالحلیم ابن تیمیہ الحرانی الحنبلی (ت728ھ) لکھتے ہیں:
رَوَاهُ أَهْلُ السُّنَنِ وَصَحَّحَهُ التِّرْمِذِيُّ.
ترجمہ: اہل سنن نے اس حدیث کو روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔
[5]: علامہ شمس الدین ابو عبد لله محمد بن احمد بن عثمان ذہبی (ت748ھ) فرماتے ہیں:
صحیح.
[6]: امام نور الدین ابو الحسن علی بن عبد اللہ السمہودی الشافعی (ت911ھ) لکھتے ہیں:
وصححه البيهقي
ترجمہ: امام بیہقی نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔
[7]: علامہ شہاب الدین احمد بن محمد بن عمر الخفاجی المصری (ت 1069ھ) لکھتے ہیں:
وھذا الحدیث مسند صحیح.
ترجمہ: یہ حدیث مسند ہے اور صحیح ہے۔
[8]: ناصر الدین البانی صاحب (ت 1420ھ)اس کے بارے میں لکھتے ہیں:
صحیح.
ترجمہ: یہ حدیث صحیح ہے۔
[9]: مولانا حبیب الرحمٰن الاعظمی (ت1412ھ) اس کے بارے میں فرماتے ہیں:
اسنادہ صحیح.
ترجمہ: اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
[10]: امام اھل السنۃ حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر (ت 1430ھ) فرماتے ہیں:
”الغرض یہ روایت اصولِ حدیث کے لحاظ سے بالکل صحیح ہے۔ “
مذکورہ تصحیح کے بعد اُن صاحب کا اس روایت کو”ضعیف“ قرار دینا کچھ معنی نہیں رکھتا۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا