- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ ایک آدمی جس کے 4 بچے اور بیوی زیر پرورش ہیں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر ہے ا س کی مالی حیثیت صرف 17 ہزار روپے تنخواہ ہے بس جس سے بمشکل گزارا ہے باقی سونا نقدی بینک بیلنس وغیرہ کچھ بھی ملکیت نہیں لیکن ایک پلاٹ اس کی ملکیت ہے جو اس نے اپنی آبائی گاؤں کے گھر کو بیچا پھر اس کے بدلے اس کو یہ پلاٹ دیا گیا اور مکان کی نیت سے خریدا ہے تو کیا اس آدمی پر زکوٰۃ لگ سکتی ہے یعنی اس کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے کیا وہ زکوٰۃ کا حق دار ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
یہ شخص زکوۃ کا مستحق ہے، اسے صدقات واجبہ (زکوۃ ، عشر اور فطرانہ) دے سکتے ہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved