• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

وضو کے بعد آسمان کی طرف انگلی کا اشارہ کر کے دعا پڑھنے کا حکم

استفتاء

وضو کے بعد آسمان کی طرف انگلی اٹھا کر کلمہ شہادت کے بعد ”اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ  ظَلَمْتُ نَفْسِیْ “  سے آخر تک دعا پڑھنا کیسا ہے؟ احادیث کی روشنی میں  وضاحت سے ارشاد فرما دیں!

جزاک الله خیرا واحسن الجزاء فی الدنیا والآخرۃ.

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

وضو کے بعد کلمہ شہادت اور دعائیں پڑھنا احادیث مبارکہ سے ثابت ہے۔ ان دعاؤں کے پڑھنے کے دوران آسمان کی طرف دیکھنا بھی ثابت ہے البتہ صراحت کے ساتھ وضو کے بعد کلمہ شہادت اور دعا پڑھتے وقت انگلی کا اٹھانا کسی روایت میں نظر سے نہیں گزرا۔ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے اس موقع پر انگلی اٹھانے کو مستحسن قرار دیا ہے۔ انگلی اٹھانے کی وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبات میں شہادتین کے کلمات کی ادائیگی کے وقت انگلی کا اشارہ فرمایا کرتے تھے۔ گویا  زبان سے توحید کی شہادت دینے کے ساتھ  ساتھ انگلی اٹھا کر اشارہ کرنا  عملاً توحید کا اقرار کرنا ہے۔ اسی  قولی  وعملی اقرارِ توحید کے پیشِ نظر اگر وضو کے بعد کلمہ شہادت پڑھتے  وقت بھی انگلی اٹھائی جائے تو مستحسن ضرور ہو گا لیکن اسے  لازم اور ضروری نہ  سمجھا جائے اور اشارہ نہ کرنے والوں پر نکیر بھی نہ کی جائے۔

     عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّهِ  صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّاُ فَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللہِ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ.

                                                  (صحیح مسلم:  رقم الحدیث 234)

ترجمہ: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی  ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:تم میں سے جو شخص خوب اچھی طرح وضوء کرے، پھر یہ دعا پڑھے: ”أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللہِ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ“ [ترجمہ: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے،اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں] تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جائیں گے جس دروازے سے چاہے داخل ہو ۔

امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے  اپنی کتاب ”السنن الکبریٰ“ میں یہی روایت تفصیلاً ذکر کی ہے،  اس میں آسمان کی طرف نظر اٹھانے کا بھی ذکر ہے۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں:

قال لي عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “من توضأ فأحسن الوضوء ثم رفع بصره إلى السماء فقال اشهد ان لا إله الا الله وحده لا شريك له وأشهد ان محمدا عبده ورسوله فتحت له الثمانية أبواب من الجنة يدخل من أيها شاء.”

(السنن الکبریٰ للنسائی: ج6 ص25  رقم الحدیث 9912)

ترجمہ: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص خوب اچھی طرح وضو کرے، پھر  اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائے اور یہ دعا پڑھے: ”أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللہِ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ“ تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جائیں گے جس دروازے سے چاہے داخل ہو ۔

سنن الترمذی میں  حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی مذکورہ روایت میں دعا کے یہ الفاظ زیادہ ذکر کیے گئے ہیں:

اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنِيْ مِنَ التَّوَّابِيْنَ  وَاجْعَلْنِيْ مِنَ الْمُتَطَهِّرِيْنَ.

(سنن الترمذی: رقم الحدیث 55)

ترجمہ: اے اللہ! مجھے خوب توبہ کرنے والوں اور خوب پاکی حاصل کرنے والوں میں شامل فرما۔

        عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ رَأَى بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ رَافِعًا يَدَيْهِ فَقَالَ قَبَّحَ اللَّهُ هَاتَيْنِ الْيَدَيْنِ ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَزِيدُ عَلَى أَنْ يَقُولَ بِيَدِهِ هَكَذَا وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ الْمُسَبِّحَةِ.

(صحیح مسلم: رقم الحدیث 874)

ترجمہ: حضرت حصین سے روایت ہے کہ حضرت عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ نے بشربن مروان کودیکھاکہ وہ منبرپہ کھڑے دونوں ہاتھوں کوبلندکئے ہوئے تھے ۔انہوں نے کہا:اﷲ تعالیٰ ان ہاتھوں کابراکرے ، میں نے رسول اﷲ  صلی اللہ علیہ وسلم کوصرف اس طرح کرتے دیکھاہے۔ حضرت عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ نے اپنی شہادت کی انگلی  کا اشارہ کیا۔

علامہ احمد بن محمد بن اسماعیل الطحطاوی الحنفی (ت1231ھ) لکھتے ہیں:

ذکر الغزنوي أنہ یشیر بسبابتہ حین النظر إلی السماء.

(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح: ص)

ترجمہ: علامہ غزنوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دعا پڑھتے وقت جب آسمان کی طرف دیکھے تو شہادت کی انگلی کا اشارہ بھی کرے!

نوٹ:

سوال میں ذکر کردہ دعا ”اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ  ظَلَمْتُ نَفْسِیْ “   وضو کے بعد کے موقع پر تو منقول نہیں۔ اس لیے جواز کے پیشِ نظر پڑھ لی جائے تو گنجائش ہے۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved