• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

وطن اصلی میں نماز قصر یا اتمام؟

استفتاء

میں شہآباد ضلع ہردوئی کا رہنے والا ہوں۔ میرا گھر شہآباد میں ہے لیکن میں پچھلے پانچ  سالوں سے  دہلی میں رہتا ہوں۔  شہآباد اور دہلی کے بیچ میں  350  کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔ تو جب میں دہلی سے شہآباد جاتا ہوں صرف  ایک  ہفتے کے لیے تو میں پوری نماز ادا کروں یا قصر نماز پڑھوں؟  شہآباد میں میرے والد کا گھر موجود ہے جو کہ میرا بھی گھر ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

آپ کے سوال سے معلوم ہو رہا ہے کہ شہآباد کو آپ  بالکلیہ ترک نہیں کر چکے بلکہ یہاں آپ کا گھر اور اس میں رہائش کا ارادہ بھی موجود ہے جیسا کہ آپ کے اس جملہ ”شہآباد میں میرے والد کا گھر موجود ہے جو کہ میرا بھی گھر ہے“ سے معلوم ہو رہا ہے۔ اس لیے شہآباد آپ کا وطنِ اصلی ہے۔ جب بھی آپ شہآباد آئیں گے چاہے کم مدت کے لیے ہی سہی تو یہاں آتے ہی آپ مقیم ہو جائیں گے اور پوری نماز پڑھیں گے۔ اگر اس کے علاوہ کوئی صورت ہے تو لکھ کر حکم دریافت کر لیجیے!

© Copyright 2025, All Rights Reserved