- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
کل افطار کے وقت ہمارے یہاں کی خواتین غیر مقلدین کے پڑوس میں تھیں۔ وہاں افطار سے چار منٹ پہلے وہ لوگ نعت پڑھتے ہیں۔ ان خواتین کو لگا کہ افطار کا وقت ہوچکا ہے تو انہوں نے وقت سے چار منٹ پہلے اپنا روزہ افطار کر لیا۔ کیا ان خواتین کو اس روزہ کی قضاء کرنا پڑے گی یا نہیں؟ خواتین کی تعداد پندرہ تھی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
چونکہ ان خواتین نے غلطی سے غروبِ آفتاب سے چار منٹ قبل روزہ افطار کر لیا تھا اس لیے ان پر اس دن کے روزہ کی قضاء رکھنا واجب ہے، البتہ کفارہ واحب نہیں۔
علامہ شمس الدین محمد بن عبد اللہ بن احمد تمرتاشی الحنفی (ت1004ھ) لکھتے ہیں:
أَوْ تَسَحَّرَ أَوْ أَفْطَرَ يَظُنُّ الْيَوْمَ لَيْلًا وَ الْفَجْرُ طَالِعٌ وَالشَّمْسُ لَمْ تَغْرُبْ قَضٰى فَقَطْ.
(تنویر الابصار مع شرحہ الدر المختار: ج3 ص463)
ترجمہ: کسی شخص نے اس گمان پر سحری کھا لی کہ ابھی رات باقی ہے حالانکہ دن ہو چکا تھا یا کسی نے اس گمان پر افطاری کر لی کہ اس وقت سورج غروب ہو گیا ہے حالانکہ سورج ابھی غروب نہیں ہوا تھا تو ان دونوں صورتوں میں صرف قضاء لازم ہے۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved