- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
مرحومہ اپنے بعد اپنی والدہ ، شوہر ، دوبیٹے ، دو بیٹیاں اور چھ بہنیں چھوڑ کر گئی ہے۔ مرحومہ کی جملہ وراثت 1245865 (بارہ لاکھ پینتالیس ہزار آٹھ سو پینسٹھ روپے) ہے۔ اس کو کس طرح تقسیم کریں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مرحومہ کی وفات کے وقت جو منقولی یا غیر منقولی جائیداد اس کی ملکیت میں تھی،اس میں سے تجہیز و تکفین کےاخراجات نکالنے، قرض اگر ذمہ میں ہو تو اس کی ادائیگی کرنے اور کسی جائز کام کی وصیت کی ہو تو ایک تہائی مال میں اس وصیت کو پورا کرنے کے بعد اگر کل ترکہ وہی ہے جو سوال میں درج ہے، تو اس میں درج ذیل ورثاء اپنے اپنے مقرر شدہ حصہ کے حق دار ہوں گے۔ تفصیل یہ ہے:
حسبِ تصریح کل ترکہ 1245865 (بارہ لاکھ پینتالیس ہزار آٹھ سو پینسٹھ روپے) میں سے مرحومہ کے شوہر کو 311466.3 (تین لاکھ گیارہ ہزار چار سو چھیاسٹھ روپے تیس پیسے) ملیں گے۔ مرحومہ کی والدہ 207644.2 (دو لاکھ سات ہزار چھ سو چوالیس روپے بیس پیسے ) کی حق دار ہو گی۔ ہر بیٹی کو 121125.8 (ایک لاکھ اکیس ہزار ایک سو پچیس روپے اسی پیسے) ملیں گے، اور ہر بیٹا 242251.5 (دو لاکھ بیالیس ہزار دو سو اکاون روپے پچاس پیسے) کا حق دار ہو گا۔ مرحومہ کی بہنیں وراثت سے محروم ہوں گی۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved