- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
حضرت! آپ نے ایک جگہ حدیث کے حوالے سے فرمایا ہے کہ ایک شخص والدہ کا بہت نافرمان تھا۔ پوری زندگی اس نے والدہ کی نافرمانی کی تھی۔ جب اس کی وفات ہونے لگی تو اس کی زبان پر والدہ کی نافرمانی کی وجہ سے کلمہ جاری نہیں ہو رہا تھا اور اس کی روح نہیں نکل رہی تھی۔ وہ شخص بہت تڑپ رہا تھا۔ اتنے میں جب اس کی والدہ کو معلوم ہوا کہ اس کی نافرمانی کی وجہ سے اسے پکڑ ہو رہی ہے تو اس نے آ کر فوراً اپنے بیٹے کو معاف کر دیا۔ بیٹے کی روح آسانی سے نکل گئی۔
حضرت! یہ ہمارے علم کے مطابق تو یہ روایت درست نہیں بلکہ یہ ایک جھوٹا، موضوع اور من گھڑت واقعہ ہے۔ اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں!
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جی ہاں! یہ روایت درست نہیں۔ درج ذیل محدثین نے اسے موضوع قرار دیا ہے۔
1: امام ابوالفرج عبد الرحمٰن بن ابی الحسن علی بن محمد ابن الجوزی ( 597ھ) [ كتاب الموضوعات: ج3 ص87]
2: علامہ شمس الدین ابو عبد الله محمد بن احمد بن عثمان ذہبی (ت748ھ) [ تلخیص الموضوعات للذھبی: ص160 رقم 757]
3: علامہ جلال الدین عبد الرحمٰن بن ابی بکر السیوطی الشافعی (ت911 ھ) [اللآلي المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ: ج2 ص251]
4: امام نور الدین علی بن محمد بن علی ابن عراق الكنانی (ت963ھ) [ تنزیہ الشریعۃ المرفوعۃ عن الاحادیث الشنیعۃ الموضوعۃ للکنانی: ج2 ص364]
والدین کی نافرمانی کا برا انجام بیان کرتے ہوئے ہم نے جو روایت بیان کی ہے واقعتاً تسامح ہے۔ ہم اس سے رجوع کرتے ہیں اور اس پر اللہ تعالیٰ سے معانی مانگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری اس کوتاہی پر ہمیں معاف فرمائے۔ آمین۔ آپ کے توجہ دلانے پر آپ کے بھی ممنون ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو شایانِ شان اجر نصیب فرمائے۔ آمین
© Copyright 2025, All Rights Reserved