- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک آدمی دوسرے سے یوں معاملہ طے کرتا ہے کہ آپ کو ویزہ ٹکٹ وغیرہ کا سارا خرچ میں دیتا ہوں، آپ سعودی عرب جائیے لیکن دس سال تک جو ماہانہ تنخواہ آپ لیں گے اس میں سے آدھی مجھے دیں گے۔صورتحال یہ ہے کہ جانے والے کے پاس روپے نہیں ہیں۔گویا ایک شخص روپے دیتا ہے اور دوسرا ان روپوں سے سعودی آتا ہے اور جو پیسے یہاں کماتا ہے وہ دونوں کے درمیان آدھا آدھا ہوں گے۔ تو کیا ایسا معاملہ کرنا صحیح ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
۱: اس میں عوض مجہول ہے۔ ٹکٹ اور ویزا کا خرچ متعین ہے لیکن اس کے بدلے میں جو رقم ملے گی وہ مجہول ہے۔ عوض میں جہالت کی وجہ سے معاملہ ناجائز ہوتا ہے۔
۲: یہ صورت جوے سے بھی ملتی جلتی ہے کیونکہ یہ معلوم نہیں کہ اس شخص کی تنخواہ کتنی ہو گی؟ اور آیا کہ وہ دس سال تک کمائی کر پائے گا یا اس سے پہلے فوت ہو جائے گا یا وطن واپس آ جائے گا؟ عوض میں یہ تمام تر صورتحال علی سبیل الخطر (Risk) ہے اس لیے جُوا کے مشابہ ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔
علامہ علاء الدین ابو بكر بن مسعود بن احمد الکاسانی الحنفی (ت587ھ) لکھتے ہیں:
(ومنها) أن يكون المبيع معلوماً وثمنه معلوماً علماً يمنع من المنازعة.
(بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع : ج5 ص 156)
ترجمہ: بیع کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ مبیع اور ثمن واضح طور پر معلوم ہوں تاکہ جھگڑا نہ ہو۔(ثابت ہوا کہ عوضین کا معلوم ہونا ضروری ہے)
علامہ محمد امین بن عمر بن ابن عابدین شامی (ت1252ھ) لکھتے ہیں:
لِأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْ الْمُقَامِرَيْنِ مِمَّنْ يَجُوزُ أَنْ يَذْهَبَ مَالُهُ إلَى صَاحِبِهِ ، وَيَجُوزُ أَنْ يَسْتَفِيدَ مَالَ صَاحِبِهِ وَهُوَ حَرَامٌ بِالنَّصِّ.
(رد المحتار مع الدر المختار: ج 9ص 665 کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع)
ترجمہ: جوے میں یہ بھی ممکن ہے کہ ایک فریق کا مال دوسرے فریق کے پاس چلا جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ انسان دوسرے فریق کے مال سے نفع حاصل کرے، اس لیے یہ جوا شرعاً حرام ہے۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved