- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
میرے والد صاحب جن کی عمر تقریبا ً 66 سال ہے کچھ روز قبل ان کے مثانے کا آپریشن ہوا ہے۔ ابھی بھی تکلیف میں مبتلا ہیں ۔ درد کبھی کبھی بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔ اگر وہ روزہ رکھتے ہیں تو پانی کی کمی کی وجہ سے پیشاب میں تکلیف ہوتی ہے اور جلن بھی۔ کیا ایسی حالت میں وہ روزہ چھوڑ سکتے ہیں؟ اور اگر چھوڑ دیں تو ان روزوں کا فدیہ دینا ہو گا یا پھر صحت یابی کے بعد رکھ سکتے ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
[1]: اگر روزہ رکھنے کی وجہ سے ناقابلِ برداشت تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو روزہ چھوڑ سکتے ہیں۔ اگر روزہ کی وجہ سے معمولی مشقت ہوتی ہے اور کچھ ہمت کرنے سے وہ تکلیف برداشت بھی کی جا سکتی ہو تو اب روزہ رکھنا ضروری ہے۔ آپ کے والد چند دن روزہ رکھ کر اپنی حالت کا صحیح اندازہ لگا لیں اور اسی کے مطابق عمل کریں۔
[2]: روزوں کا فدیہ دینے کے لیے شرط یہ ہے کہ انسان ایسا بیمار ہو یا بوڑھا ہو کہ فی الحال بھی روزے نہ رکھ سکتا ہو اور آئندہ بھی اسے یہ امید نہ ہو کہ اسے قدرت حاصل ہو گی اور وہ روزے رکھ سکے گا۔ اگر ایسی صورتحال ہو تو ہر روزے کے بدلے فدیہ (ایک صدقۃ الفطر کے برابر غلہ یا اس کی قیمت) دیا جا سکتا ہے لیکن اگر آئندہ صحت ملنے کی امید ہو تو فی الحال فدیہ دینا جائز نہیں بلکہ قدرت حاصل ہونے پر ان چھوڑے ہوئے روزوں کی قضاء کرنا لازم ہو گا۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved