- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
الٹراساؤنڈ کروانے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مجبوری کی حالت میں الٹراساؤنڈ کی اجازت ہے، یعنی بچہ کے مرض کی تشخیص یا اس کی کیفیت جاننےکے لیے اگر الٹرا ساؤنڈ ضروری ہو تب اس کی اجازت ہے لیکن اس میں بھی شرط یہ ہے کہ الٹرا ساؤنڈ کرنے والی خاتون ہو، اگر مرد ہو تو وہ اس حاملہ عورت کا خاوند ہو، کیوں کہ الٹرا ساؤنڈ کرنے کے لیے عورت کے ستر کو کھولنا پڑتا ہے، اور شرعی مجبوری کے بغیر ایسا کرنا جائز نہیں۔
محض بچہ کی جنس معلوم کرانے کے لیے الٹرا ساؤنڈ کرانا شرعاً جائز نہیں کیونکہ اس میں کئی طرح کی خرابیاں ہیں: ایک یہ کہ بچہ کی جنس معلوم کرنا فی نفسہٖ پسندیدہ عمل نہیں ہے، بیٹا ہو یا بیٹی، دونوں ہی اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحمت ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بھی عطا ہو اس پر راضی رہنا چاہیے۔ مزید یہ کہ بچہ کی جو جنس شکمِ مادر میں ہو گی ولادت کے بعد بھی وہی رہے گی، اس لیے قبل از ولادت دیکھنے کا فائدہ نہیں۔دوسرا یہ کہ محض جنس معلوم کرنا کوئی ایسا عذر اور ضرورت نہیں ہے کہ جس کے لیے عورت کے ستر کو دیکھنا جائز ہو۔ ہاں اگر الٹرا ساؤنڈ کرانا ضروری ہو اور اس ضمن میں بچہ کی جنس بھی معلوم ہو جائے تب شرعاً اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved