- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک بندے نے موٹر سائیکل ادھار پر بیچا جس کی قیمت اور پیسے دینے کی مدت بھی مقرر تھی لیکن نقد کےمقابلے میں موٹر سائیکل کی قیمت تھوڑی بڑھا دی جسے ہمارے علاقے میں ”ڈیو“ کہتے ہیں۔ اسے کچھ لوگ سود کہہ رہے ہیں ، کیا واقعی یہ سود ہے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اگر معاملہ ادھار پر طے ہو جائے اور اس کی قیمت بھی متعین کر لی جائے – اگرچہ وہ نقد کے بہ نسبت کچھ زیادہ ہو- تو یہ سود میں شامل نہیں ہے، شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ اس معاملہ میں کوئی اور شرط فاسد موجود نہ ہو۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved