- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
دریافت یہ کرنا ہے کہ ہمارے علاقے میں کسی کا انتقال ہوتا ہے تو اس کے رشتہ دار خواہ قریبی ہوں یا دور کے ، مرد و خواتین سبھی بہت طویل سفر کر کے تعزیت کے لیے پہنچتے ہیں۔ کیا خیرالقرون میں بھی اس طرح محض تعزیت کی غرض سے طویل سفر کیا جاتا تھا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
تعزیت سے مقصود لواحقین کو صبر کی تلقین کرنا، تسلی دینا اور ان کے دکھ درد میں شریک ہو کر صدمہ کی کیفیت کو کم کرنا ہوتا ہے، اور ظاہر بات ہے کہ جس قدر تسلی قرابت داروں کے پاس ہونے اور دلاسا دینے سے ہوتی ہے اس قدر دوسروں سے نہیں ہوتی۔ چونکہ قرابت اور قوتِ قرابت کے لحاظ سے درجہ بہ درجہ صبر اور تسلی کا حصول ہوتا ہے، اس لیے کسی کی قرابت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ وہ مستقل سفر کرکے حاضر ہو، اور کسی کی طرف سے محض مکتوب ، میسج، یا ٹیلی فون کال ہی تسلی اور صبر کا باعث بن جاتا ہے، اس لیے اسے مستقل سفر کرنے کی حاجت نہیں رہتی۔موجودہ دور میں ذرائع ابلاغ تیز ترین اور اسباب سفر بہترین ہیں، راستوں کے پرسکون اور سواریوں کے آرام دہ ہونے کی بناء پر دور نزدیک کا فرق نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے، بلکہ یہ بات عام مشاہدے میں ہے کہ بسااوقات دور کے قرابت دار قریب والوں کے بہ نسبت پہلے پہنچ چکے ہوتے ہیں۔ اس کے بر عکس خیر القرون میں ذرائع ابلاغ مسدود اور اسبابِ سفر محدود تھے، اس لیے ممکن ہے کہ بروقت اطلاع نہ مل سکنے کی وجہ سے وہ موقع پر حاضر نہ ہو پاتے ہوں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ا ور تابعین عظام رحمہم اللہ میں سے کسی کا تعزیت کی غرض سے سفر کرنے کا کوئی جزئیہ تلاش بسیار کے باوجود سامنے نہیں آ سکا، البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دُور کا تو نہیں بلکہ مدینہ منورہ میں اموات کے اہلِ خانہ کے پاس تشریف لے جا کر لواحقین سے تعزیت کرنا احادیث سے ثابت ہے، اسی طرح تعزیتی مکتوب بھی کتب احادیث میں موجود ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے نام ان کے بیٹے کی رحلت کے موقع پر ارسال فرمایا تھا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved