- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
حضرت! جیسا کہ آپ کو علم ہے کہ یہاں آٹھ رکعات تراویح ہوتی ہیں اور ان کا وتر پڑھنے کا طریقہ بھی ہمارے وتر پڑھنے کے طریقے سے الگ ہے کہ وہ دو رکعات پہلے پڑھتے ہیں اور ایک رکعت بعد میں اور اکثر آخری رکعت میں دعا بھی ہوتی ہے۔ ان کے پیچھے وتر پڑھنا کیسا ہے؟ اس کی وضاحت فرما دیں۔
نیز ان کے سجدہ سہو کرنے کا طریقہ بھی ہمارے طریقے سے الگ ہے۔ اس کے بارے میں بھی وضاحت مطلوب ہے۔
حضرت! میں نے ان کے پیچھے جو نمازیں پہلے پڑھی ہیں وہ دوبارہ پڑھوں یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
[۱]: جب آپ آٹھ رکعت تراویح پڑھ چکیں تو الگ ہوکر اپنی تراویح مکمل کریں یعنی بارہ رکعات مزید پڑھیں تاکہ بیس رکعات پوری ہو جائیں۔ اس کے بعد وتر پڑھیں جس ترتیب سے احناف پڑھتے ہیں یعنی تین رکعات وتر دو قعدوں اور ایک سلام کے ساتھ ۔ ہاں اگر آپ کے لئے الگ وتر پڑھنا ممکن نہ ہو سکے تو وتر جماعت کے ساتھ پڑھ لیں لیکن بعد میں ان کا اعادہ کر لیں۔
[۲]: احناف کے نزدیک سجدۂ سہو سلام کے بعد کرنا مسنون ہے۔ اگر سلام سے قبل بھی کر لیا تو نماز ہو جائے گی۔ اس لیے اگر ان ائمہ کی اقتداء میں سلام سے قبل سجدے کر لیے تب بھی نماز درست ہو گی۔
[۳]: آپ کی سابقہ نمازیں ادا ہو گئی ہیں، ان کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے۔
نوٹ: مذکورہ سوالات کے جوابات اس صورت میں ہیں جب آپ کا امام حنبلی المسلک ہو اور اسی کے مطابق نماز ادا کرتا ہو۔ اگر امام ایسا ہو جو تقلید کو شرک کہتا ہو، ائمہ مجتہدین کو برا بھلا کہتا ہو اور ان کے مقلدین کو مشرک اورگمراہ سمجھتا ہو تو مذکورہ بالا حکم نہ ہو گا بلکہ اس قسم کے امام کے پیچھے نماز درست نہ ہو گی۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved