- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
کیا تراویح پڑھانے کے لیے امام کا بالغ ہونا ضروری ہے؟ بالغ ہونے کی عمر کتنی ہوتی ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جی ہاں! تراویح پڑھانے کے لیے امام کا بالغ ہونا ضروری ہے۔ نابالغ امام اگر تراویح پڑھائے تو اس کی اقتداء میں بالغ مقتدیوں کی تراویح ادا نہیں ہو گی۔
لڑکے میں بلوغ کی علامت احتلام یا انزال ہے۔ اگر علاماتِ بلوغ ظاہر نہ ہوں تو چاند کے اعتبار سے جب پندرہ سال مکمل ہو جائیں اور سولہواں سال شروع ہو جائے تو اب یہ لڑکا بالغ سمجھا جائے گا۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : نَهَانَا أَمِيْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ نَؤُمَّ النَّاسَ فِي الْمُصْحَفِ ، وَنَهَانَا أَنْ يَّؤُمَّنَاإِلَّا الْمُحْتَلِمُ. ( کتاب المصاحف لابن ابی داؤد: ص711باب ہل یؤم القرآن فی المصحف)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں قرآن کریم دیکھ کر امامت کروانے سے منع فرمایا اور ہمیں یہ حکم دیا کہ بالغ ہی امامت کروائیں۔
عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَا يَؤُمُّ الْغُلَامُ حَتّٰى تَجِبَ عَلَيْهِ الْحُدُوْدُ. (نیل الاوطار للشوکانی:ج3ص176 باب ما جاء فی امامۃ الصبی)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بچہ امامت نہ کرائے جب تک اس قابل نہ ہو جائے کہ اس پر حدود لگ سکیں (یعنی بالغ ہو جائے)۔
علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد الحصکفی الحنفی(ت1088ھ) لکھتے ہیں:
(وَلَا يَصِحُّ اقْتِدَاءُ رَجُلٍ بِامْرَأَةٍ) وَخُنْثٰى (وَصَبِيٍّ مُطْلَقًا) وَلَوْ فِيْ جِنَازَةٍ وَنَفْلٍ عَلَى الْأَصَحِّ. (الدر المختار مع رد المحتار:ج4 ص290)
ترجمہ: مرد کے لیے کسی عورت، خنثیٰ (ہیجڑا) اور بچے کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے چاہے وہ نماز جنازہ ہو یا نفل نماز ہو، صحیح قول یہی ہے۔
علامہ ابو البرکات عبد اللہ بن احمد بن محمود النسفی الحنفی (ت710ھ) لکھتے ہیں:
بُلُوغُ الْغُلَامِ بِالِاحْتِلَامِ وَالْإِحْبَالِ وَالْاِنْزَالِ … وَالْجَارِيَةُ بِالْحَيْضِ وَالِاحْتِلَامِ وَالْحَبَلِ …. وَيُفْتٰى بِالْبُلُوْغِ فِيْهِمَا بَخَمْسَةَ عَشْرَ سَنَةً. ( کنز الدقائق مع شرحہ البحر الرائق:ج8 ص153)
ترجمہ: لڑکا ؛ احتلام ہونے ، عورت کو حاملہ کرنے اور انزال ہونے کی صورت میں بالغ ہو جاتا ہے اور لڑکی حیض جاری ہونے، احتلام ہونے اور حاملہ ہونے کی صورت میں بالغ ہو جاتی ہے۔ (اگر یہ علامات نہ ہوں تو ) پندرہ سال مکمل ہونے کی صورت میں ان دونوں کے بالغ ہونے کا حکم لگایا جائے گا۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved