• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

تقدیر کے خیر اور شر ہونے کا صحیح مفہوم کیا ہے؟

استفتاء

اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو تمام فیصلے خیر اور رحمت ہی کے ہوتے ہیں، تو پھر کیا وجہ ہے کہ تقدیر پر بات کرتے ہوئے ہم کہتے ہیں کہ ہم ہر اچھی بُری تقدیر پر ایمان لاتے ہیں، پوچھنا یہ ہے کہ بُری اور شر تقدیر کیا ہوتی ہے، اور اس کا صحیح مفہوم کیا ہے؟ براہِ کرام رہنمائی کیجیے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

یہ بات حقیقت ہے کہ اللہ کے تمام فیصلے اپنی ذات میں بالکل درست اور خیر ہی ہوتے ہیں، انہیں خیر یا شر سے تعبیر کرنا یہ بندے کی طبیعت کی طرف نسبت کرنے کی وجہ سے ہے۔ یعنیاللہ تعالیٰ کے جو فیصلے بندے کے نفس، خواہش اور مزاج کے موافق ہوں ان کو ”تقدیرِ خیر“ کہتے ہیں اور جو فیصلے بندے کے نفس، خواہش اور مزاج کے خلاف ہوں انہیں ”تقدیرِ شر“ کہتے ہیں۔جیسے کسی شخص کے ہاں اولاد کا نہ ہونا یا ہو کر پھر فوت ہو جانا، یہ چیز چونکہ اس کے مزاج، طبیعت اور خواہش کے خلاف ہے، اس لیے اس بندے کی طرف نسبت کرتے ہوئے اسے تقدیرِ شر کہا جائے گا، ورنہ حقیقت اور انجام کے لحاظ سےاللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ بھی اس بندے کے حق میں یقیناً بہتر ہی ہوتا ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved