• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

طلاق کا اقرار کرنے کی ایک صورت کا حکم

استفتاء

چند دن قبل روڈ حادثے میں مجھے شدید چوٹیں آئیں، ہاتھ، پاؤں اور سر متأثر ہوئے،  درد اور تکلیف کے باعث مسلسل ادویات استعمال کرنے کی وجہ سے مجھ پر اکثر غنودگی طاری رہتی تھی،  اور ان ادویات کے زیرِ اثر چہروں کی پوری پہچان اور مکمل شناسائی بھی نہیں ہوتی تھی۔  اسی دوران میں اپنی بیوی کے ساتھ میری تلخ کلامی ہوئی، میری بیوی کا بیان یہ ہے کہ میں نے  طلاق کے الفاظ استعمال کیے ہیں، اور ازدواجی تعلق کو توڑ دیا ہے، جب کہ میرا موقف یہ نہیں ہے۔  میری اہلیہ کا بیان اور اس کے جواب میں میرا بیان  حسبِ ذیل  ہے۔ 
سائل  کی اہلیہ کا بیان: 
خاوند نے غصہ کی حالت میں تین بار یہ الفاظ بولے، میں نے طلاق دے دی، میں نے طلاق دے دی،  میں نے طلاق دے دی، پھر کچھ دیر کے بعد میں تصدیق کرنے کی غرض سے پوچھا کہ، کیا تم نے طلاق دے دی؟  تو اس نے کہا: ہاں دے دی، یہ  جملہ بھی تین بار دوہرایا گیا۔ 
سائل کا بیان: 

طلاق دینے کے الفاظ مجھے یاد نہیں، اگر طلاق کے الفاظ مجھ سے ادا ہوئے تو اس سب کی مجھے کچھ خبر نہیں، کیوں کہ یہ سب ان ادویات کے اثر سے ہوا، گویا نیم بے ہوشی کی کیفیت تھی،  اس وقت مجھے تھوڑی بہت پہچان تھی، مگر یہ پتہ نہیں تھا کہ کیا بول رہا ہوں،رات کے وقت یہ وقوعہ ہوا، صبح جب بیوی نے اس کا تذکرہ کیا تو   مجھے کچھ یاد نہیں تھا۔ البتہ میری بیوی نے جب  تین بار تصدیق چاہی  کہ کیا تم نے طلاق دے دی؟ میں نے کہا ہاں دے دی،  یہ پوری   گفتگو مجھے یاد ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ  شفقت فرما کر اس مسئلہ کا شرعی حل بتائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
“وَلَوْ قَالَتْ أَنَا طَالِقٌ فَقَالَ نَعَمْ طَلُقَتْ، وَلَوْ قَالَهٗ فِيْ جَوَابِ “طَلِّقْنِي” لَا تَطْلُقُ وَإِنْ نَوٰى۔ قِيْلَ لِرَجُلٍ أَلَسْتَ طَلَّقْتَ إِمْرَأَتَكَ؟ فَقَالَ بَلٰى، تَطْلُقُ كَاَنَّهٗ قَالَ طَلَّقْتُ لِأَنَّهٗ جَوَابُ الِاسْتِفْهَامِ بِالْإِثْبَاتِ وَلَوْ قَالَ نَعَمْ لَا تَطْلُقُ لِأَنَّهٗ جَوَابُ الِاسْتِفْهَامِ بِالنَّفْيِ كَاَنَّهٗ قَالَ مَا طَلَّقْتُ”(باب فی ایقاع الطلاق، الفصل الاول فی الطلاق الصریح ج1 ص 391)ترجمہ:
اور اگر بیوی نے (شوہر سے)کہا “میں طلاق والی ہوں؟” تو شوہر نے(جواب میں) کہا۔، “ہاں” تو اس سے بیوی کو طلاق واقع ہو جائے گی۔ اور اگر بیوی کہے مجھے طلاق دے دو، اس کے جواب میں شوہر “ہاں” کہے تو طلاق واقع نہیں ہو گی اگرچہ شوہر (لفظ “ہاں” کہتے وقت)طلاق کی نیت بھی کرے۔ ایک آدمی سے کہا گیا، کیا تو نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی؟ اس نے کہا ، “کیوں نہیں”تو اس سے طلاق ہو جائے گی ، گویا شوہر نے یوں کہا کہ میں نے طلاق دے دی۔ کیوں کہ لفظ “بَلیٰ” کے ذریعےسوال کا اثبات کے ساتھ جواب دیا جاتا ہے۔ اور اگر شوہر نے اس سوال (کیا تو نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی؟) کے جواب میں “ہاں” کہا تو طلاق نہیں ہو گی۔ کیوں کہ لفظ“نَعَمْ”سوال کا نفی کے ساتھ جواب دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے، گویا شوہر نے یوں کہا، میں طلاق نہیں دی۔درج بالا عبارت کی روشنی میں سائل اور اس کی اہلیہ کے بیان پر بہت غور و فکر کیا گیا، اس سے یہ معلوم ہوا کہ سائل شاہد اقبال کے بیان کی یہ عبارت ” البتہ میری بیوی نے جب تین بار تصدیق چاہی کہ کیا تم نے طلاق دے دی؟ میں نے کہا ہاں دے دی، یہ پوری گفتگو مجھے یاد ہے۔” طلاق کے واقع ہونے پر دلیل ہے۔لہٰذا اب سائل شاہد اقبال کی بیوی کو تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، وہ اپنے شوہر پر حرام ہو چکی ہے، ان دونوں کا ایک ساتھ رہنا حرام اور ناجائز ہے۔ اب شرعی حلالہ کے بغیر دوبارہ نکاح کرنا بھی جائز نہیں ہو گا۔ شرعی حلالہ سے مراد یہ ہے کہ عورت عدت کے بعد اپنی مرضی سے دوسری شادی کرے اور اس کے بعد یہ دونوں میاں بیوی آپس میں وظیفہ زوجیت بھی ادا کریں، بعد میں شوہر یا تو فوت ہو جائے یا اپنی مرضی سے اسے طلاق دےدے اور یہ عدت گزارنے کے بعد واپس پہلے شوہر کے پاس جانا چاہے تو اب باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح جائز ہو گا۔واللہ اعلم بالصَّوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved