- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
امید کرتا ہوں کہ آپ خیرو عافیت سے ہوں گے۔
احناف کے نزدیک عیدین کی نماز کے طریقے پر سنن ابی داؤد کی حدیث نمبر 1153 پیش کی جاتی ہے جو کہ ضعیف حدیث ہے جبکہ سنن ابی داؤد کی حدیث نمبر 1151 اور 1152 صحیح حدیثیں ہیں۔ تو ہم احناف صحیح احادیث کو چھوڑ کر ضعیف حدیث پر عمل کیوں کرتے ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اس حوالے سے دو باتیں سمجھیں:
[۱]: سنن ابی داؤد میں احناف کی مستدل حدیث ( رقم 1153) (اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: عَنْ مَكْحُولٍ قَالَ أَخْبَرَنِى أَبُو عَائِشَةَ جَلِيسٌ لأَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ سَأَلَ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِىَّ وَحُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِى الأَضْحَى وَالْفِطْرِ فَقَالَ أَبُو مُوسَى كَانَ يُكَبِّرُ أَرْبَعًا تَكْبِيرَهُ عَلَى الْجَنَائِزِ. فَقَالَ حُذَيْفَةُ صَدَقَ. فَقَالَ أَبُو مُوسَى كَذَلِكَ كُنْتُ أُكَبِّرُ فِى الْبَصْرَةِ حَيْثُ كُنْتُ عَلَيْهِمْ.) ضعیف نہیں بلکہ صحیح ہے۔ کیونکہ اس کے راوی ”ابو عائشہ الاموی“ پر ابن حزم نے جو ”مجہول“ ہونے کی جرح کی ہے ( تہذیب التہذیب لابن حجر: ج12 ص131) یہ جرح غیر مقبول ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ابو عائشہ سے روایت کرنے والے دو راوی ہیں؛ ایک مکحول اور دوسرے خالد بن معدان۔
حافظ شہاب الدین احمد بن علی ابن حجر عسقلانی الشافعی (ت852ھ) لکھتے ہیں:
وعنه مكحول وخالد بن معدان (تہذیب التہذیب لابن حجر: ج12 ص131)
ترجمہ: ابو عائشہ سے روایت کرنے والے دو راوی ہیں؛ مکحول اور خالد بن معدان
اصولِ حدیث کا قاعدہ ہے کہ اگر کسی راوی سے روایت کرنے والے افراد دو ہو جائیں تو جہالت کا الزام ختم ہو جاتا ہے۔
علامہ تقی الدین علی بن عبد الکافی ابن علی السبکی (ت756ھ) فرماتے ہیں:
وبروایۃ اثنین تنتفی جہالۃ العین. ( شفاء السقام فی زیارۃ خیرالانام للسبکی: ص8)
ترجمہ: دو افراد کے روایت کرنے سے راوی سے جہالت عینی ختم ہو جاتی ہے۔
اسی وجہ سے حافظ احمد بن علی ابن حجر عسقلانی الشافعی نے ابو عائشہ کو تقریب التہذیب میں ”مقبول“ لکھا ہے۔ ( تقریب ا لتہذیب: ص654) حالانکہ مجہول راوی کو ”مقبول“ نہیں کہا جاتا۔ ثابت ہوا کہ ابو عائشہ سے الزامِ جہالت ختم ہو چکا ہے۔
اسی کی تائید خود غیر مقلد عالم محمد ناصر الدین البانی صاحب کی اس بات سے ہوتی ہے کہ انہوں نے اس روایت پر ”حسن صحیح“ کا حکم لگایا ہے۔ (سنن ابی داؤد بتحقیق الالبانی: رقم الحدیث 1153)
[۲]: احناف عیدین میں سنن ابی داؤد کی حدیث نمبر 1153 پر عمل کرتے ہوئے ہر رکعت میں تین زائد تکبیرات کے قائل ہیں، حدیث نمبر 1151 اور 1152 کے پیشِ نظر پہلی رکعت میں سات اور دوسری میں پانچ کے قائل نہیں، اس کی دو وجوہات ہیں:
پہلی وجہ: امام ابو داؤد سلیمان بن الاشعث السجستانی( ت 275ھ) نے ایک قاعدہ لکھا ہے:
إِذَا تَنَازَعَ الْخَبَرَانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نُظِرَ إِلَى مَا عَمِلَ بِهِ أَصْحَابُهُ مِنْ بَعْدِهِ. (سنن ابی داؤد: تحت رقم الحدیث 720)
ترجمہ: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو احادیث میں اختلاف ہو جائے تو اس حدیث پر عمل کیا جائے گا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عمل کیا ہو۔
تکبیراتِ عیدین کی احادیث میں مذکورہ بالا اختلاف میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ہر رکعت میں تین زائد تکبیرات پر اتفاق کیا۔
امام ابوجعفر احمد بن محمد بن سلامہ الطحاوی (ت321ھ) نے تابعی کبیر امام ابراہیم بن یزید النخعی رحمہ اللہ سے ایک قوی مرسل حدیث نقل کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:
فتراجعوا الأمر بينهم فأجمعوا أمرهم على أن يجعلوا التكبير على الجنائز مثل التكبير في الأضحى والفطر أربع تكبيرات فأجمع أمرهم على ذلك. (شرح معنی الآثار: ج1 ص319 باب التکبیر علی الجنائز کم ہو؟)
ترجمہ: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس معاملے میں غور وفکر سے کام لیا اور بالآخر اس بات پر ان کا اجماع ہو گیا کہ جنازہ کی تکبیریں چار ہوں گی جس طرح عید الاضحیٰ اور عید الفطر کی چار تکبیریں ہوتی ہیں۔
چونکہ پہلی رکعت میں تکبیرِ تحریمہ اور تین زائد تکبیریں مل کر چار تکبیریں ہوئیں اور دوسری رکعت میں تین زائد تکبیریں اور رکوع کی تکبیر مل کر چار ہوئیں۔ تو یوں گویا کہ ہر رکعت میں چار تکبیرات ہوئیں۔ اس لیے جنازہ کی چار تکبیرات کو عیدین کی ہر رکعت کی چار تکبیرات سے تشبیہ دینا درست ہوا۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عیدین میں چھ زائد تکبیرات ہونے پر اتفاق تھا۔ اس لیے احناف بھی اسی پر عمل پیرا ہیں۔
دوسری وجہ: امام ابو داؤد سلیمان بن الاشعث السجستانی( ت 275ھ) نے بارہ زائد تکبیرات (پہلی رکعت میں سات اور دوسری میں پانچ) والی دو روایات پہلے ذکر کی ہیں (حدیث نمبر 1151، 1152) اور چھ زائد تکبیرات والی روایت بعد میں ذکر کی ہے (حدیث نمبر 1153)۔ محدثین کا طرز یہی ہے کہ وہ پہلے ان احادیث کو ذکر کرتے ہیں جو ان کے ہاں منسوخ ہوتی ہیں، پھر ان احادیث کو لاتے ہیں جو ان کے ہاں ناسخ ہوتی ہیں۔
امام ابو زکریا یحی بن شرف النووی الشافعی (ت676ھ) فرماتے ہیں:
وَهٰذِهِ عَادَةُ مُسْلِمٍ وَغَيْرِهِ مِنْ أَئِمَّةِ الْحَدِيثِ يَذْكُرُونَ الْأَحَادِيثَ الَّتِي يَرَوْنَهَا مَنْسُوخَةً ثُمَّ يُعَقِّبُونَهَا بِالنَّاسِخِ. (شرح مسلم للنووی: ج1ص156 باب الوضوء مما مست النار)
ترجمہ: یہ امام مسلم رحمہ اللہ اور دیگر محدثین کی عادت ہے کہ وہ پہلے ان احادیث کو لاتے ہیں جو ان کے نزدیک منسوخ ہوتی ہیں، پھر وہ لاتے ہیں جو ناسخ ہوتی ہیں۔
اس اعتبار سے بارہ زائد تکبیرات والی روایت منسوخ اور چھ زائد تکبیرات والی روایت ناسخ ہے۔ الحمد للہ احناف منسوخ کے بجائے ناسخ پر عمل پیرا ہیں۔
مذکورہ بالا دو وضاحتوں سے ثابت ہوا کہ احناف کی مستدل حدیث صحیح ہے اور چھے زائد تکبیرات کے سلسلہ میں احناف کے پاس قوی وجوہاتِ ترجیح موجود ہیں۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved