• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

سونے کے بٹن استعمال کرنے کا حکم

استفتاء

میں ایک فارم میں امام مسجد ہوں۔ میرا سوال یہ ہے کہ میرے پاس ایک شخص آیا ہے اور اس نے اپنی قمیض پر سونے کے بٹن لگائے ہوئے تھے۔ میں نے اس سے کہا کہ یہ جائز نہیں ہے۔ تو اس نے کہا کہ میں نے ایک مفتی صاحب سے مسئلہ پوچھا ہے اور وہ اس کو جائز کہتے ہیں۔ آپ سے گزارش ہے کہ اس کی وضاحت فرما دیں۔ جزاک اللہ خیراً

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

سونے کے بٹن کے استعمال میں تفصیل ہے اگر بٹنوں کو کپڑے کے ساتھ سی دیا گیا ہو تو یہ کپڑے کے تابع ہو جائیں گے۔ اس صورت میں ان کا استعمال درست ہو گا۔ اگر بٹن کپڑوں کے سلائی نہ کیے گئے ہوں بلکہ الگ بھی ہو جاتے ہوں جیسا کہ عموماً ڈبل کاج بٹن میں ہوتا ہے تو اس صورت میں ان کا استعمال جائز نہ ہو گا۔علامہ محمد امین بن عمر ابن عابدین شامی (ت1252ھ) لکھتے ہیں:
لَا بَأْسَ بِأَزْرَارِ الدِّيبَاجِ وَالذَّهَبِ.(رد المحتار مع االدر المختار: ج6 ص255)
ترجمہ: ریشم اور سونے کے بٹن لگانے میں کوئی حرج نہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved