• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

شوہر کے ظالمانہ طرز عمل پر بیوی کیا کرے؟

استفتاء

ایک شخص نے پہلے منگنی کی۔ پھر اپنی منگیتر سے قبل از نکاح نا جائز تعلقات استوار کیے جس کے نتیجے میں اس کی منگیتر حاملہ ہوئی۔  پھر اس شخص نے اسی عورت سے نکاح کیا اور طلاق دے دی ۔  بعد از طلاق بچہ پیدا ہوا۔  بعد از طلاق یہ شخص اپنی مطلقہ سے بذریعہ فون تعلق قائم رکھے ہوئے ہے اور موبائل فون پر ہی فحش اور پُر شہوت گفتگو کرتا ہے، ملاقات ہونے پر معانقہ و بوس کنار بھی کرتا ہے۔ یہ شخص  اپنی اصل زوجہ کے  ازدواجی حقوق ادا نہیں کرتا حتیٰ کہ بوس و کنار بھی نہیں کرتا۔ اگر بیوی مطالبہ کرے تو کہتا ہے کہ جنگ و جدل میں صحابہ رضی اللہ عنہم جاتے تھے اور کئی کئی ماہ باہر رہتے تھے، اس لیے آپ بھی صبر کریں جبکہ فون پر کسی اور عورت سے غلط کاری کرتا ہے۔ نیز یہ شخص بیوی پر بے جا پابندیاں لگاتا ہے، بازار بھی نہیں لے کر جاتا، جب بھی بازار اور شاپنگ کا مطالبہ کیا جائے تو انتہائی سخت زبان اور حوالے دیتا ہے۔ بیوی جیب خرچ کا مطالبہ کرے تو کہتا ہے کہ آپ کی فرمائش کے مطابق ہر چیز مہیا کر دی جاتی ہے آپ کو جیب خرچ کی کیا ضرورت ہے؟   ایسے شخص کے بارے میں شریعت کے کیا احکامات ہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اس شخص کا  یہ عمل گناہ کبیرہ ہے۔ اسلام ایسے غیر انسانی اور غیر شریفانہ عمل کی اجازت ہرگز نہیں دیتا۔ اسلام نے زنا کو حرام اور نکاح کو حلال فرمایا ہے۔ حلال کو چھوڑ کر حرام کے پاس جانا اللہ کے عذاب کو دعوت دینے اور شریعت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے سامنے جرات کرنے کے مترادف ہے۔ اسلام شوہر کو اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتا وہ بیوی کے حقوق پامال کرے، اس سے دور ہو کر مطلقہ کے ساتھ اس قسم کی بے ہودہ گفتگو کرے اور اعمالِ بد کا ارتکاب کرتا پھرے بلکہ اسلام کی تعلیمات تو یہ ہیں کہ بیوی کے حقوق ادا کیے جائیں، اس سے خوش اخلاقی سے پیش آیا جائے اور اس کی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔ آنحضرت صلی اللہ  علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِى.

                                    (السنن الکبریٰ للبیہقی: رقم الحدیث16117)

ترجمہ:  تم میں سے سب سے اچھا شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے حق میں بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے حق میں تم سب سے  اچھا ہوں۔

شوہر کو چاہیے کہ یہ بات ذہن میں رکھے کہ دنیا دار العمل ہے اور آخرت دار الجزاء ہے۔ دنیا میں دوسروں پر جو ظلم و ستم کرو گے اور حقوق پامال کرو گے آخرت میں اس کا بدلہ ضرور دو گے۔ اس شخص کی بیوی کو چاہیے کہ نماز روزہ اہتمام سے ادا کرتی رہے، قرآن پاک کی تلاوت اور ذکر و اذکار کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھے، اپنی عزت و ناموس کی حفاظت کرتی رہے اور ان حالات کے باوجود شوہر کے ساتھ عزت و احترام کا معاملہ رکھے۔ عورت اس معاملہ پر صبر کرے گی تو اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ ضرور اس کے خاوند کو راہِ راست پر آنے کی توفیق عطا فرمائے گا۔

ہم بھی دعا گو ہیں کہ اس شخص کو اپنی آخرت کی فکر نصیب ہو۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved