- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی ﷾ نے ایک بیان میں شیخ احمد رفاعی کا واقعہ بیان فرمایا کہ وہ روضہ اقدس پہ گئے تو ان کی درخواست پر نبی پاک ﷺ کا دستِ مبارک باہرظاہر ہوا اور انہوں نے نبی پاک ﷺ کے دستِ مبارک کو بوسہ دیا۔
اس پر بعض لوگوں کی طرف سے کچھ سوالات آئے ہیں برائے مہربانی میری رہنمائی فرمائیں۔
1 :شیخ احمد رفاعی کون تھے؟
2: یہ واقعہ کس کتاب میں ہے؟ اور اسکی تفصیل کیا ہے؟
3: اس واقعہ کی کیا حیثیت ہے؟
4: علماء ِعرب تو اس واقعہ کو غلط کہتے ہیں۔ جیسے “فتاویٰ علماء بلد الحرام” میں اسے غلط کہا گیا ہے۔
5: کسی صحابی کے لئے تو ہاتھ مبارک ظاہر نہیں ہوا ،اس بزرگ کے لئے کیسے ہوگیا ؟
6:کیا اس طرح کا واقعہ بعد میں پیش آیا؟
7:یہ واقعہ حدیث مبارک کی کونسی کتاب میں ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
سوالات کے جوابات سے پہلے یہ بات سمجھیں کہ اھل السنت والجماعت کا عقیدہ ہے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر مبارک میں بتعلق روح زندہ ہیں ۔اس عقیدہ پر قرآن کریم کی آیات ،احادیث مبارکہ ،اجماع امت جیسے مضبوط دلائل موجود ہیں ۔اس طرح کے واقعات اھل السنت والجماعت کے عقیدہ کی تائید بنتے ہیں ۔بعض لوگ جو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات فی القبر کا انکار کرتے ہیں وہ اس طرح کے خرق عادت واقعات کا انکارکرکے در اصل اس عقیدہ کا انکار کرنا چاہتے ہیں ۔
1:شیخ احمد رفاعی :
آپ چھٹی صدی ہجری کے ایک بزرگ عابد وازہد گزرے ہیں آپ کا نام ابو العباس احمد بن ابو الحسن علی بن احمد الرفاعی ہے ۔ آپ کی وفات 578ھ میں ہوئی۔ آپ کے بارے میں امام شمس الدین الذہبی رحمہ اللہ (ت748ھ) لکھتے ہیں :
الأمام، القدوہ، العابد، الزاہد،شیخ العارفین،
سیر اعلام النبلاءج:21۔ص77
2: مکمل واقعہ:
امام عبد الکریم بن محمد الرافعی ت 623ھ نے اپنی سند سے یہ واقعہ نقل کیا ۔
اخبرنی شیخنا الامام الحجۃ القدوۃ ابو الفرج عمر الفاروثی الواسطی قال حج سیدنا وشیخنا السید احمد الرفاعی عام خمس وخمسین وخمسمائۃ فلما وصل المدینۃ وشرف بزیارۃ جدہ علیہ الصلاۃ والسلام ووقفنا خلف ظہرہ فقال السلام علیک یاجدی فقال لہ علیہ افضل صلوات اللہ وعلیک السلام یاولدی فتواجد لھذہ النعمۃ وقال منشدا
فیْ حَالَۃِ الْبُعْدِ رُوْحِیْ کُنْتُ أُرْسِلُھَا ۔۔۔۔۔۔ تُقَبِّلُ الأَرْضُ عَنِّیْ فَھیَ نَائِبَتِیْ
وَھٰذِہٖ نَوبَۃُ الأَشْبَاحِ قَدْ حَضَرَتْ ۔۔۔۔۔۔ فَامْدُدْ یَمِیْنَکَ کَیْ تَحْظَیْ بِہَا شَفَتِیْ
فمد لہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یدہ الشریفۃ من قبرہ الکریم فقبلھا فی ملاءیقرب من تسعین الف رجل ۔۔۔
سواد العینین فی مناقب الغوث ابی العلمین ص10،11
ترجمہ: ہمارے حضرت امام عمر الفاروثی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :ہمارت حضرت شیخ احمد رفاعی رحمہ اللہ 555ھ میں حج کے لئے تشریف لے گئے جب مدینہ منورہ روضہ پر حاضری کے لئے تشریف لے گئے تو ہم آپ کے پیچھے کھڑے تھے آپ رحمہ اللہ نے روضہ اقدس پر سلام پیش کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک سے جواب آیا جسے سن کر آپ نے فرط محبت میں اشعار پڑھتے ہوئے کہا ۔ حضور:جب میں دور تھا تو میں اپنی روح کو آپ کی خدمت اقدس میں بھیجا کرتا تھا وہ میری طرف سے ارض مدینہ کو بوسہ دیتی تھی ، آج جسم کی حاضری کا موقع ملا ہے ، اپنا دستِ مبارک دیجئے،تاکہ میرے ہونٹ اس کو چومیں۔چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک قبر انور سے نکالااور شیخ احمد رفاعی رحمہ اللہ نے نوے ہزار لوگوں کی موجودگی میں آپ کے ہاتھ مبارک کو چوما ۔
یہ واقعہ امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ ت911ھ نے بھی نقل کیا ہے۔
“حَجَّ سَیِّدِیْ أَحْمَدُ الرِّفَاعِیْ فَلَمَّا وَقَفَ تُجَاہَ الْحُجْرَۃِ الشَّرِیْفَۃِ أَنْشَدَ”
فِیْ حَالَۃِ الْبُعْدِ رُوْحِیْ کُنْتُ أُرْسِلُھَا ۔۔۔۔۔۔ تُقَبِّلُ الأَرْضُ عَنِّیْ فَھْیَ نَائِبَتِیْ
وَھٰذِہٖ نَوبَۃُ الأَشْبَاحِ قَدْ حَضَرَتْ ۔۔۔۔۔۔ فَامْدُدْ یَمِیْنَکَ کَیْ تَحْظَیْ بِہَا شَفَتِیْ
فَخَرَجَتِ الْیَدُ الشَّرِیْفَۃُ مِنَ الْقَبْرِ الشَّرِیْفِ فَقَبَّلَھَا
(الحاوی للفتاویٰ:ج2ص 314)
ترجمہ: جب سید احمد رفاعی حج کے لئے تشریف لے گئے روضہ اقدس پر حاضری دی قبرِ اطہر کے سامنے کھڑے ہوکر اشعار پڑھے؛حضور:جب میں دور تھا تو میں اپنی روح کو آپ کی خدمت اقدس میں بھیجا کرتا تھا وہ میری طرف سے ارض مدینہ کو بوسہ دیتی تھی ، آج جسم کی حاضری کا موقع ملا ہے ، اپنا دستِ مبارک دیجئے،تاکہ میرے ہونٹ اس کو چومیں۔چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک قبر انور سے ظاہر ہوااور شیخ احمد رفاعی رحمہ اللہ نے آپ کے ہاتھ مبارک کو چوما ۔
مزے کی بات یہ ہے کہ دیگر علماء کرام کے ساتھ ساتھ اشاعت التوحید والسنۃ کے نامور عالم ،تفسیر جواہر القرآن کے مرتب ،ماہنامہ تعلیم القرآن راولپنڈی کے مدیر سید سجاد بخاری صاحب ت1992ء نے بھی اس واقعہ کو ذکر کیا ہے ۔
ومن ذالک ماوقع لسیدنا الرفاعی رضی اللہ عنہ حین زار النبی صلی اللہ علیہ وسلم وانشد عند الحجرۃ الشریفۃ البیتتین المشھورین۔۔۔ فمثلت لہ الید الشریفۃ وقبلھا۔
اسی طرح واقعہ سیدنا امام رفاعی رح کو پیش آیا جب انہوں نے روضہ مطہرہ کی زیارت کی اور اپنے مشہور دو شعر پڑھے تو آپ کے دست مبارک کی مثال ظاہر ہوئی اور انہوں نے اس کا بوسہ لیا۔ {اقامۃ البرہان ص178}
فائدہ: مولنا سجاد بخاری نے جس کتاب سے حوالہ دیا ہے اس میں اس واقعہ کو بغیر سند کے نقل کیا گیا لیکن اس پر کسی اشاعتی نے سوال نہیں اٹھایا کہ یہ واقعہ حدیث مبارک کی کس کتاب میں ہے؟ اس کی سند نہیں ہے وغیرہ ۔
اور اس کتاب میں اس واقعہ کے بعد یہ بات بھی موجود ہے ۔
والخبر المذكور مشهور من قبل الإمام المذكور
اسنی المطالب في أحاديث مختلفة المراتب لمحمد بن درویش ت1276ھ : ج1ص357
ترجمہ: شیخ احمد رفاعی رحمہ اللہ کی یہ کرامت مشہور ہے۔
3: اس واقعہ کی حیثیت:
اھل السنت والجماعت کے نظریہ کے مطابق یہ کرامت ہے اور کرامت اس خرقِ عادت کام کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اپنے ولی کے ہاتھ پر ظاہر کرتے ہیں جسکا مقصد اسکی تائید یا اس کی مدد یا اسے ثابت قدم رکھنا یا دین کی مدد ہوتا ہے، کرامت کا ثبوت قرآن و سنت میں موجود ہے ۔
- سیدہ مریم علیھا السلام کے لئے بے موسم پھلوں کا آنا ان کی کرامت تھی ۔
فَتَقَبَّلَـهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّاَنْبَتَـهَا نَبَاتًا حَسَنًا وَّكَفَّلَـهَا زَكَرِيَّا كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْـهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا قَالَ يَا مَرْيَـمُ اَنّـٰى لَكِ هٰذَا قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّـٰهِ اِنَّ اللّـٰهَ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَآءُ بِغَيْـرِ حِسَابٍ
(آل عمران :آیت نمبر:37)
ترجمہ:مریم کے رب نے اچھی طرح سے قبول کیا اور اسے اچھی طرح بڑھایا اور مریم کی پرورش حضرت زکریا علیہ السلام نے کی ، جب زکریا اس کے پاس حجرہ میں آتے تو اس کے پاس کچھ کھانے کی چیز موجود پاتے تو پوچھتے اے مریم! تیرے پاس یہ چیز کہاں سے آئی ہے، وہ کہتی یہ اللہ پاک کی طرف سے آئی ہے، اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔
- حضرت سلیمان علیہ السلام کی موجودگی میں آصف بن برخیا کا تخت بلقیس لا نا ان کی کرامت تھی۔
قَالَ الَّذِي عِنْدَهُ عِلْمٌ مِنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ فَلَمَّا رَآهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهُ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّي
سورۃ النمل: آیت 40
ترجمہ: جس وزیر کے پاس کتاب کا علم تھا اس نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے عرض کی میں آنکھ جھپکنے سے بھی پہلے تخت آپ کے پاس لے آوں گا ،جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے تخت اپنے سامنے دیکھا تو فرمایا یہ میرے رب کے فضل کی ایک جھلک ہے۔
- حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے جانے کے بعد حضرت اُسید بن حضیر اورحضرت عبادہ بن بشیر رضی اللہ عنہما کے سامنے نور کا چمکنا ان دونوں کی کرامت تھی۔
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَجُلَيْنِ خَرَجَا مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ وَإِذَا نُورٌ بَيْنَ أَيْدِيھما حَتّٰى تَفَرَّقَا , فَتَفَرَّقَ النُّورُ مَعَهُمَا . وَقَالَ مَعْمَرٌ : عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ إِنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ وَرَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ ، وَقَالَ حَمَّادٌ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ كَانَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ ، وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ ، عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
(صحیح بخاری : رقم الحدیث 3805۔کتاب المناقب الانصار ، باب منقبۃ أسید بن حضیر و عبادہ بن بشر)
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : رات کے اندھیرے میں دو صحابی نبی کریم ﷺ کی مجلس سے اٹھ کر گھر جانے لگے تو ایک غیبی نور ان کے آگے آگے روشن تھا، جب وہ جدا ہوئے تو ان کے ساتھ ساتھ وہ نور بھی دوحصوں میں تقسیم ہو گیا۔ حضرت انس کی ایک روایت میں ہے کہ ان میں ایک حضرت اسید بن حضیر اور ایک دوسرے انصاری صحابی تھے جبکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی ایک روایت کے مطابق یہ حضرت اسید بن حضیر اور عباد بن بشر تھے ۔
- دوران قید حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کوبغیر موسم کے انگو ر ملنا ان کی کرامت تھی۔
عن عُبَيْد اللّهِ بْن عِيَاضٍ أَنَّ بِنْتَ الْحَارِثِ أَخْبَرَتْهُ۔۔۔وَاللَّهِ لَقَدْ وَجَدْتُهُ يَوْمًا يَأْكُلُ مِنْ قِطْفِ عِنَبٍ فِي يَدِهِ،وَإِنَّهُ لَمُوثَقٌ فِي الحَدِيدِ، وَمَا بِمَكَّةَ مِنْ ثَمَرٍ، وَكَانَتْ تَقُولُ: إِنَّهُ لَرِزْقٌ مِنَ اللَّهِ رَزَقَهُ خُبَيْبًا۔
(صحیح بخاری: رقم الحدیث ۔3045 كِتَابُ الجِهَادِ وَالسِّيَرِ بَابٌ؛ هَلْ يَسْتَأْسِرُ الرَّجُلُ وَمَنْ لَمْ يَسْتَأْسِرْ)
ترجمہ: بنت حارث کہتی ہیں اللہ کی قسم! میں نے ایک دن دیکھا کہ انگور کا خوشہ حضرت خبیب کے ہاتھ میں ہیں اور وہ مزے سے کھا رہے ہیں۔ حالانکہ وہ لوہے کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اور مکہ مکرمہ میں پھلوں کا موسم بھی نہیں تھابنت حارث کہتی ہیں بلا شبہ یہ تو اللہ کی طرف سے رزق تھا جو اس نے حضرت خبیب کو عطا کیا تھا۔
- حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک سے سلام کا جواب آنا اور تدفین کی اجازت ملنا آپ رضی اللہ عنہ کی کرامت تھی۔
أما أبو بكر رضي الله عنه فمن كراماته أنه لما حملت جنازته إلى باب قبر النبي صلى الله عليه وسلّم ونودي السلام عليك يا رسول الله هذا أبو بكر بالباب فإذا الباب قد انفتح وإذا بهاتف يهتف من القبر ادخلوا الحبيب إلى الحبيب
تفسیر کبیر سورۃ الکہف آیت 9
ترجمہ: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی کرامات میں سے ایک کرامت یہ بھی ہے کہ وفات کے بعد جب آپ کی چار پائی روضہ اقدس کے سامنے رکھی گئی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرنے کے بعد درخواست کی کہ حضور ابوبکر کا جسد خاکی حاضر ہے تو دروازہ خود بخود کھل گیا اور اندر سے آواز آئی دوست کو دوست تک پہنچادو ۔
اسی طرح شیخ احمد رفاعی رحمہ اللہ کے لئے قبر مبارک سے ہاتھ مبارک نکلنا ایک خرق عادت چیز تھی جو شیخ احمد رفاعی رحمہ اللہ کی کرامت تھی ۔
4:علماء عرب:
علماء عرب کا عقیدہ وہی ہے جو اھل السنت والجماعت کا ہے اس کی دلیل علماء عرب کی طرف سے ”المہند علی المفند “تصدیق ہے ۔
باقی جس فتاوی ”البلد الحرام “کی بات کی جاتی ہے اس میں بہت ساری ایسی باتیں لکھی گئی ہیں جو صرف ہم نہیں بلکہ اعتراض کرنے والے بھی قبول نہیں کرتے ۔
1: تارک الصلوٰۃ {یعنی نماز چھوڑنے والا} کے متعلق اس میں موجود ہے کہ تارک الصلوٰۃ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اور تین دن کی مہلت کے بعد مسلم حکمران کو چاہیئے کہ اسے مرتدین کی طرح قتل کردے نیزاسمیں یہ بھی لکھا ہے کہ تارک الصلوٰۃ کا ذبیحہ حرام ہے۔( ص63)
2: “ایمان تصدیقِ قلبی کا نام ہے “اس کے متعلق اس میں موجود ہے کہ ھٰذا قول باطل ،ضلال مبین کہ یہ قول باطل ہے اور واضح گمراہی ہے( ص113)
3: امام ابو الحسن الاشعری کے متعلق لکھا گیا ہے کہ وہ بدعتی تھا۔(ص196)
4: ایک سوال پوچھا گیا کہ تین طلاق کو تین شمار کیا جائے یا ایک ؟ تو اس کے جواب میں کہا گیا کہ تین طلاق کو ایک شمار کیا جائے گا۔(ص1435)
یہ کام کسی صحابی کے لئے کیوں نہیں ہوا؟
یہ بات ہم پہلے کر چکے ہیں کہ کرامت اس خرق عادت کام کو کہتے ہیں جو اللہ پاک کے اختیار میں ہوتا ہےاس میں کسی ولی کے اختیار کو کوئی دخل نہیں ہوتا ۔
اگر اس بنیاد پہ اس واقعہ کا انکار کرنا ہے کہ یہ صحابہ کے لئے کیوں نہیں ہوا تو کل کو کوئی کہہ سکتا ہے :
بے موسم پھل حضرت مریم کے لیے آئے حضرت زکریا کے لئے کیوں نہیں ؟
آنکھ جھپکنے سے پہلے آصف بن برخیا تخت لے آیا حضرت سلیمان کیوں نہیں؟
اصل بات یہ ہے کہ کرامت ولی کے اختیار میں نہیں ہوتی اللہ جب چاہتے ہیں جس کے لئے چاہتے ہیں اسے ظاہر فرما دیتے ہیں ۔
یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس کرامت پہ اعتراض کرنے والے کا اصل مقصد عقیدہ کا انکار ہے جس کے لئے بنیاد یہ بنائی کہ یہ صحابہ کے لئے کیوں نہیں ہوا وگرنہ جو خرق عادت کام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے لئے ہوئے یہ انہیں بھی نہیں مانتے جیسے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے لئےدفن کی اجازت ملنا اور حضرت بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کی دعا کی درخواست کے بعد ان کو خواب میں آکر بتانا کہ بارش کے لیے یہ کام کر لو۔
6: اس طرح کا خرق عادت واقعہ:
مشہورعالم اور بزرگ مولانا مشتاق احمد انبیٹھوی مرحوم نے بیان فرمایا کہ ایک بار زیارت ِ بیت اللہ سے فراغت کے بعد دربارِ رسالت میں حاضری ہوئی تو مدینہ طیبہ کےدورانِ قیام مشائخ ِ وقت سے یہ تذکرہ سنا کہ امسالِ روضہ اطہر سے عجیب کرامت کو ظہور ہوا ، ایک ہندی نوجوان جب نےبارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر صلوٰۃ وسلام پڑھاتو دربار رسالت سے وعلیکم السلام یا ولدی کے پیارے الفاظ سے اس کو جواب ملا اس واقعہ کو سن کر قلب پر ایک خاص اثر ہوا مزید خوشی کا سبب یہ بھی تھا کہ یہ سعادت مندی نوجوان کو نصیب ہوئی دل تڑپ اٹھا اور اس ہندی نوجوان کی جستجو شروع کی تاکہ اس محبوب بارگاہ رسالت کی زیارت سے مشرف ہوسکوں اور خود اس واقعہ کی بھی تصدیق کرلوں تحقیق کے بعد پتا چلا کہ وہ ہندی نوجوان سید حبیب اللہ مہاجر مدنی کا فرزندِ ارجمند ہے ، گھر پہنچا ملاقات کی ،تنہائی پاکر اپنی طلب و جستجو کا راز بتایا ، ابتداء میں خاموشی اختیار کی لیکن اصرار کے بعد کہا “بے شک جو آپ نے سنا وہ صحیح ہے”یہ نوجوان تھے مولانا حسین احمد مدنی ۔
(الجمعیۃ شیخ الاسلام نمبر ص94)
7: حدیث کی کونسی کتاب میں ہے؟
یہ سوال سائل کی جہالت وحماقت کی دلیل ہے کیونکہ جب واقعہ تاریخ کا ہے ،چھٹی صدی ہجری کے بزرگ کا ہے تو اس کا تذکرہ حدیث مبارک کی کتاب میں کیسے ہوگا ؟
باقی اس پر سند کا مطالبہ کیا جاتا ہے وہ ہم نے پیش کردی ہے ۔
اللہ پاک ہمیں اھل السنت والجماعت کے عقائد ونظریات پر کاربند رہنے کی توفیق عطافرمائیں ۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved