- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
اگر کوئی شخص روزہ رکھے اور حالتِ روزہ میں بیماری، بھوک یا پیاس کی وجہ سے اس حد تک پہنچ جائے کہ اگر روزہ نہ توڑے تو اس کی جان جانے یا بیماری کے شدید ہونے کا خطرہ ہو تو کیا روزہ توڑنا جائز ہے؟ اس صورت میں اس پر قضاء لازم ہو گا یا کفارہ بھی؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
سوال میں ذکر کردہ تمام صورتوں میں روزہ توڑنے کی اجازت ہے۔ ان صورتوں میں صرف قضاء لازم ہے، کفارہ لازم نہیں۔ نیز یہی حکم ان دیگر صورتوں کا بھی ہے جن میں روزہ باقی رکھنے کی صورت میں سخت تکلیف میں پڑنے یا اپنی جان یا بچے کی جان جانے یا کسی عضو کے معطل ہونے کا یقین ہو یا غالب گمان ہو جیسے کسی کا ایکسیڈنٹ ہوا یا کسی موذی جانور نے ڈس لیا یا ہارٹ اٹیک ہوا اور دوائی یا پانی پلانے کی حاجت پڑ گئی ہو اب روزہ توڑنے کی اجازت ہو گی۔ ان صورتوں میں بھی صرف قضاء لازم ہو گی، کفارہ نہیں۔
حافظ الدین امام محمد بن محمد بن شہاب بن یوسف الکُرَدِی الحنفی (ت827ھ) ان صورتوں کا ذکر کرتے ہیں جن میں روزہ توڑنے کی اجازت ہے اور ان میں قضاء لازم ہے، کفارہ نہیں۔ آپ لکھتے ہیں:
ٳن لم یفطر یزداد وجع العین أوتشتد الحمی أفطر وٳنما یعرف باجتہادہ وبٳخبار طبیب مسلم…. ٳذا خاف علی نفسہ اوخافت الحامل علی نفسہا أو ولدھا نقصان العقل أو الھلاک أفطرت … لدغتہ الحیۃ فأفطر لشرب الدواء والدواء ینفعہ لا بأس بہ.
(الفتاویٰ البزازیۃ: ج1 ص94)
ترجمہ: اگر کوئی شخص روزہ نہ توڑے تو آنکھ کا درد بڑھ سکتا ہو یا بخار تیز ہو سکتا ہو تو اس صورت میں روزہ توڑنے کی اجازت ہے۔ اپنی حالت کا اندازہ انسان خود بھی لگا سکتا ہے اور کوئی مسلمان طبیب بھی یہ صورتحال بتا سکتا ہے (کہ اب روزہ توڑ دو!) اگر کسی کو اپنی جان کا خوف ہو یا حاملہ عورت کو اپنی جان جانے کا یا عقل ختم ہونے کا یا خود بچے کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو وہ روزہ توڑ سکتی ہے۔ کسی شخص کو سانپ نے ڈس لیا اور وہ دوائی پینے کے لئے روزہ توڑنا چاہے تو اگر دوائی کے بارے میں یقین ہو کہ اس سے نفع ہو گا تو یہ شخص بھی روزہ توڑ سکتا ہے۔
شیخ عبد الرحمٰن بن محمد بن سلیمان الکلَیبُولی الحنفی (ت1078ھ) لکھتے ہیں:
وفي المبتغي العطش الشديد والجوع الذي يخاف منه الهلاك يبيح الإفطار.
(مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر : ج1 ص366)
ترجمہ: ایسا شخص جس کو سخت پیاس یا بھوک لگی ہو جس کی وجہ سے مرنے کا خطرہ ہو تو اس کے لیے روزہ توڑنے کی اجازت ہے۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved