• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

صاحبِ نصاب کے لیے زکوٰۃ وصول کرنے اور ضرورتِ شدیدہ میں دو ممکنہ صورتوں کا حکم

استفتاء

میں اس وقت کمر کی شدید تکلیف میں ہوں۔ ڈاکٹر نےفوراً انجکشن لگوانے کا مشورہ دیا ہے جو ایک سال تک لگتے رہنے ہیں۔ ہفتہ میں ایک انجکشن لگے گا اور یوں ٹوٹل 48 لگنے ہیں۔ ایک انجکشن کی قیمت تقریباً 20 ہزار روپے ہے۔ میرے پاس موجود رقم ایک لاکھ پچاس ہزار روپے تک ہے اور میرا علاج تقریباً نو لاکھ روپے کا ہے۔ کیا میں زکوٰۃ کی رقم سے علاج کروا سکتا ہوں؟ حضرت! میں بہت پریشان ہوں کہ اس صورتحال میں کیا کروں؟ کوئی حل بتائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

موجودہ رقم (ایک لاکھ پچاس ہزار روپے) جب تک آپ کی ملکیت میں ہے اس وقت تک آپ صاحبِ نصاب ہیں۔ اس لیے فی الوقت تو آپ کے لیے زکوٰۃ کی رقم وصول کر کے علاج کروانا جائز نہ ہو گا۔ البتہ درج ذیل دو صورتیں اختیار کی جا سکتی ہیں:
[1]: آپ اپنا علاج کروانا شروع کر دیں۔ جب آپ کے پاس نصابِ زکوٰۃ سے کم رقم رہ جائے (یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت سے کم رقم) اور ضرورت سے زائد (” ضرورت سے زائد سامان“ سے مراد وہ سامان ہے جس کے بغیر انسان کی بنیادی ضروریات پوری ہو جاتی ہوں۔ اس تعریف کی رو سے کھانے پینے کا سامان، رہائشی مکان، استعمال کے کپڑے اور زیورات، گھریلو ضروری اشیاء (مثلاً سلائی اور دھلائی کی مشین، فریج، کھانا پکانے کے برتن وغیرہ)، تاجروں اور مزدور طبقہ کے آلاتِ صنعت و حرفت (مثلاً مشینری، فرنیچر وغیرہ) ضرورت کا سامان کہلائے گا، اور ایسا سامان، برتن اور کپڑے وغیرہ جو سال بھر میں ایک بار بھی استعمال نہ ہوتے ہوں وہ زائد از ضرورت سامان شمار ہوں گے۔)اتنا سامان بھی نہ ہو جس کی مالیت آپ کے پاس موجود رقم کے ساتھ مل کر نصابِ زکوٰۃ (یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) کو پہنچتی ہو تو اس صورت میں آپ زکوٰۃ کی رقم وصول کر کے اپنا علاج کروا سکیں گے۔[2]: کوئی ایسا شخص جو صاحبِ نصاب نہ ہو تو وہ زکوٰۃ کی رقم وصول کر کے بخوشی آپ کو ہدیہ کر دے تو موجودہ حالت میں (ایک لاکھ پچاس ہزار روپے کی مالیت پاس ہونے کے باوجود) بھی آپ اس رقم سے علاج کروا سکتے ہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved