- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
اشکال یہ ہے کہ تبلیغی جماعت کے ایک مولانا صاحب سے ایک لڑکے نے پوچھا کہ کیا حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے؟ تو ان مولانا صاحب نے جواب دیا کہ جی ہاں! حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے۔ اس پر اس لڑکے نے قرآن مجید کی یہ آیت پیش کی:
﴿ لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ ﴾
(سورۃ الانعام: 103)
کہ آنکھیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں لیکن وہ آنکھوں کا ادراک کرتا ہے اور وہ باریک بین اور خبردار ہے۔
میں ان دونوں کی بات سن کر ٹینشن میں ہوں۔ حضرت آپ مجھے صحیح بتائیں کہ اس اشکال کا کیا جواب ہے؟ عقیدے کی بات ہے اور ایمان خطرے میں ہو سکتا ہے۔میرا دل مردہ ہو چکا ہے
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
میں نے اس اشکال کا جواب اپنی کتاب ”شرح الفقہ الاکبر“ میں تفصیل سے دیا ہے۔ آپ کی سہولت کے لیے اشکال اور جواب دونوں یہاں نقل کیے جاتے ہیں:
سوال: رؤیت باری تعالیٰ کا عقیدہ قرآن مجید کے خلاف ہے۔ قرآن مجید میں ہے:
لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ١٘ وَ هُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَ
سورۃ الانعام: 103
ترجمہ: آنکھیں اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں اور وہ آنکھوں کا احاطہ کرتا ہے۔
جواب: احادیث میں جو رؤیت ثابت ہے وہ ”رؤیت بدون الاحاطہ“ ہے یعنی دیدار باری تعالیٰ تو ہو گا لیکن حق تعالیٰ شانہ کی ذات اور صفات کے کلی احاطہ کے بغیر ہو گا اور آیت میں جس رؤیت کی نفی ہے وہ ”رؤیت بالاحاطہ“ ہے یعنی باری تعالیٰ کو ذات و صفات کے احاطہ کے ساتھ دیکھنا ممکن نہیں ہے۔
امام فخرالدین ابو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسين الرازی الشافعی (ت606ھ) لکھتے ہیں:
اَلْمَرْئِيُّ إِذَا كَانَ لَهٗ حَدٌّ وَنِهَايَةٌ وَأَدْرَكَهُ الْبَصَرُ بِجَمِيْعِ حُدُوْدِهٖ وَجَوَانِبِهٖ وَنِهَايَاتِهٖ صَارَ كَاَنَّ ذٰلِكَ الْإِبْصَارَ أَحَاطَ بِهٖ فَتُسَمّٰى هٰذِهِ الرُّؤْيَةُ إِدْرَاكًا أَمَّا إِذَا لَمْ يُحِطِ الْبَصَرُ بِجَوَانِبِ الْمَرْئِيِّ لَمْ تُسَمَّ تِلْكَ الرُّؤْيَةُ إِدْرَاكًا فَالْحَاصِلُ أَنَّ الرُّؤْيَةَ جِنْسٌ تَحْتَهَا نَوْعَانِ: رُؤْيَةٌ مَعَ الْإِحَاطَةِ وَرُؤْيَةٌ لَا مَعَ الْإِحَاطَةِ وَالرُّؤْيَةُ مَعَ الْإِحَاطَةِ هِيَ الْمُسَمَّاةُ بِالْإِدْرَاكِ فَنَفْيُ الْإِدْرَاكِ يُفِيْدُ نَفْيَ نَوْعٍ وَاحِدٍ مِنْ نَوْعَيِ الرُّؤْيَةِ وَنَفْيُ النَّوْعِ لَا يُوجِبُ نَفْيَ الْجِنْسِ فَلَمْ يَلْزَمْ مِنْ نَفْيِ الْإِدْرَاكِ عَنِ اللّهِ تَعَالٰى نَفْيُ الرُّؤْيَةِ عَنِ اللّهِ تَعَالٰى.
التفسیر الکبیر: ج13 ص104 لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَ هُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَ سورۃ الانعام: 103
ترجمہ: دیکھی جانے والی چیز کی جب حد اور انتہاء ہو اور دیکھنے والی نظر تمام حدود، اطراف اور انتہاؤں کو گھیر لے تو گویا اس نظر نے اس چیز کو گھیر لیا۔ اس دیکھنے کو ”ادراک“ کہا جاتا ہے، لیکن جب نظر؛ دیکھی جانے والی چیز کے اطراف کا احاطہ نہ کرے تو اس دیکھنے کا نام ”ادراک“ نہیں ہوتا۔ خلاصہ یہ ہے کہ ”دیکھنا “ ایک جنس ہے جس کے نیچے دو انواع ہیں، ایک دیکھنا احاطے کے ساتھ اور دوسرا دیکھنا بلا احاطہ کیے، صرف احاطے والے دیکھنے کو ”ادراک“ کہا جاتا ہے۔ اس لیے ادراک کی نفی سے دیکھنے کی ایک قسم کی نفی ثابت ہوئی اور ایک نوع کی نفی سے جنس کی نفی نہیں ہوتی۔ لہذا اﷲ کے ادراک کی نفی سے اﷲ کے دیکھنے کی نفی لازم نہیں آتی۔
تو اس آیت میں ”ادراک“ کی نفی ہے، ”رؤیت“ کی نفی نہیں ہے۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved