• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

رضاعت کے ثبوت کے لیے دو گواہ ہونا شرط ہے یا نہیں؟

استفتاء

رضاعت کے ثبوت کے لیے دو گواہ ہونا شرط ہے یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

رضاعت کے ثبوت کے لیے دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی شرط ہے۔ علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد الحصکفی الحنفی(ت1088ھ) لکھتے ہیں:( وَ ) الرَّضَاعُ ( حُجَّتُهُ حُجَّةُ الْمَالِ ) وَهِيَ شَهَادَةُ عَدْلَيْنِ أَوْ عَدْلٍ وَ عَدْلَتَيْنِ.(الدر المختار مع رد المحتار:ج3 ص224)ترجمہ: رضاعت کے ثبوت کے لیے اتنے گواہ ضروری ہیں جتنے مال کی گواہی کے لیے ضروری ہوتے ہیں یعنی دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved