• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

رشوت دے کر ملازمت اختیار کرنے اور آمدنی کا حکم

استفتاء

آج کل جو لوگ رشوت دے کر نوکری حاصل کرتے ہیں ۔ جب کہ دوسروں کے ساتھ میرٹ کا بہانہ کیا جاتا ہے کہ فلاں شخص کا میرٹ تھا ، حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ جو زیادہ پیسے دے اس کو نوکری دے دی جاتی ہے اور اصل حق دار کو حق نہیں ملتا تو آیا ایسی صورت حال میں، ہم بھی رشوت دے سکتے ہیں یا نہیں ؟ گویا کہ میرٹ کا بہانہ ہوتا ہے اصل میں کاروبار کیا جاتا ہے۔براہِ کرم وضاحت فرمائیے کہ رشوت دے کر ملازمت لینے اور اس سے ملنے والی آمدن کا کیا حکم ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

رشوت کا لینا دینا یقیناً حرام ہے، صحیح احادیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے اور لینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ اس لعنت کا مصداق وہ صورت ہے جب اپنے مفاد اور منفعت کے حصول کے لیے رشوت دی جائے۔ ہاں اگر دفعِ مَضرت کے لیے رشوت دینی پڑ جائے تو یہ صورت حالتِ اضطرار میں داخل ہے، اس لیے فقہاء کرام رحمہم اللہ نے صراحت فرمائی ہے کہ اگر کوئی شخص ظلم اور ضرر کے ازالہ کے لیے رشوت دینے پر مجبور ہو جائے تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤاخذہ نہیں فرمائیں گے۔باقی رشوت دے کر ملازمت لینے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر یہ بندہ ملازمت کی اہلیت رکھتا ہو، اور جو ذمہ داری اسے سونپی گئی ہو اسے دیانت داری سے ٹھیک ٹھیک نبھاتا ہو تو اس کی تنخواہ حلال ہو گی ، (اگرچہ رشوت کا وبال ہو گا) اور اگر اس کام کی اہلیت ہی نہ رکھتا ہو تو تنخواہ بھی حلال نہیں ہو گی۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved