- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
حضرت! میں نے ایک پلاٹ اس نیت سے خریدا تھا کہ میں اس پر گھر بناؤں گا لیکن بعد میں جگہ پسند نہیں آئی تو ایک اور پلاٹ کسی اور جگہ پر خرید لیا۔ اسی طرح یہ پلاٹ بھی پسند نہیں آیا تو اور کسی اور جگہ پر پلاٹ خرید لیا۔ تو حضرت فرمائیے کہ پہلے جو دو پلاٹ ہیں ان پر زکوٰۃ واجب ہے کہ نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
ایک اصول سمجھ لیجیے کہ پلاٹ پر زکوٰۃ اس وقت واجب ہوتی ہے جب وہ ”مالِ تجارت“ ہو۔ مالِ تجارت اس مال کو کہتے ہیں جس کو خریدتے وقت یہ نیت ہو کہ اسے بعد میں فروخت کر دیں گے اور یہ نیت زکوٰۃ کی تاریخ آنے تک باقی بھی ہو۔ آپ نے تینوں پلاٹس اس نیت سے خریدے ہیں کہ ان پر گھر بنائیں اس لیے یہ تینوں پلاٹس ”مالِ تجارت“ میں شامل ہی نہ ہوئے۔ لہذا ان پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved