- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
مسئلہ یہ ہے کہ مجھے بار بار ریح آتی ہے اور وضو بار بار ٹوٹ جاتا ہے ۔ تو کیا قرآن مجید پڑھنے کے لیے بار بار وضو کروں یا اسی وضو سے قرآن پڑھتا رہوں؟ رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اس بارے میں کچھ تفصیل ہے کہ اگر آپ کا ریح کا مرض ایسا ہے جس کی وجہ سے ایک نماز کے پورے وقت میں آپ کو اتنا وقت نہیں مل پاتا کہ آپ مکمل طہارت کے ساتھ اس وقت کے فرض ادا کر سکیں تو آپ شرعاً معذور ہیں۔
معذور کا شرعی حکم یہ ہے کہ ہر نماز کے وقت وضو کر لیا کریں، جب تک وہ وقت رہے گا تب تک آپ کا وضو باقی سمجھا جائے گا۔ اس وضو سے فرض، نفل، اداء، قضاء وغیرہ جو چاہیں نمازیں پڑھ سکیں گے۔ یہی حکم تلاوت اور ان عبادات کا ہے جن کے لیے وضو ضروری ہے۔ جب تک وقت باقی رہے گا آپ کا وضو قائم سمجھا جائے گا چاہے ریح خارج ہوتی رہے۔
ہاں اگر آپ کو اتنا وقت نہیں مل پاتا کہ آپ مکمل طہارت کے ساتھ اس وقت کے فرض ادا کر سکتے ہوں تو اب آپ شرعاً معذور نہیں ہوں گے۔ اس صورت میں آپ کو وضو کے بعد یا تلاوت کے دوران یہی عارضہ لاحق ہو جائے تو تلاوت کرنے کے لیے دوبارہ وضو کرنا ضروری ہو گا۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved