- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
اس دفعہ میری دو قربانیاں ہیں، ایک اپنی طرف سے اور دوسری اپنے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کرنے کا ارادہ ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ اس قربانی کے گوشت کے تقسیم کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ کیا اس میں سے ہم لوگ بھی حصہ لے سکتے ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کرنا بہت سعادت اور بڑے اجروثواب کا کام ہے۔ اس قربانی کے گوشت کا حکم بھی عام قربانی کی طرح ہے۔ اپنے اقارب، رشتہ داروں اور دیگر احباب کو دیں، فقراء و مساکین ، غرباء و نادار افراد کو بھی دیں، اور خود بھی کھائیں۔ ہاں اگر کسی نے وصیت کی ہو کہ میرے ایک تہائی مال میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی قربانی کر دی جائے تو اس قربانی کا تمام گوشت فقراء و مساکین میں تقسیم کرنا ضروری ہو گا، خود کھانا اور مال دار افراد کو دینا جائز نہ ہو گا۔ واللہ اعلم بالصوابدارالافتاء مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved