• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

رمضان المبارک میں شیاطین اور جنات کے قید ہونے کا مطلب

استفتاء

عرض یہ ہے کہ کل صبح سوتے وقت یہ محسوس کیا کہ جن میرے سینے پر چڑھ کر گلا دبا رہا ہے۔زبان اور جسم پر اختیار محسوس نہیں ہوتا تھا گھبراہٹ کی حالت میں کسی طرح لاحول ولاقوۃ اور آیت الکرسی کے چند کلمات ادا ہوے اور یہ کیفیت رفع ہو گئی اور بندہ بیدار ہو گیا۔اس کیفیت سے کئی مرتبہ واسطہ پڑ چکا ہے کل روزے کی حالت میں یہ کیفیت ہوئی۔لاک ڈاون کے سبب بندہ ایسے گھر میں کلام پاک سنا رہا ہے جو ویران رہتا ہے ۔سوال ذہن میں پیدا ہو رہا ہے کہ جنات و شیاطین رمضان المبارک میں قید کر دیے جاتے ہیں پھر اس کیفیت سے واسطہ کیوں پڑا صحت بھی متاثر رہتی ہے حضرت والا سے گزارش ہے بندے کی رہنمائی فرماکر دعاء کریں۔بندہ جواب پاکر بیحد مسرورو مشکور ہوگا۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

رمضان المبارک میں شیطانوں کو قید کر دینے کا مطلب یہ ہے کہ شیطان لوگوں کو بہکانے سے باز رہتے ہیں اور مومنین ان کے وسوسوں میں نہیں آتے۔ کیونکہ روزے کی وجہ سے قوت شہوت مغلوب ہو جاتی ہے۔اور نیکیوں اور اعمال صالحہ کی طاقت روزے کی وجہ سے قوی ہوتی ہے رمضان میں عام دنوں کی نسبت گناہ کم ہوتے ہیں اور عبادت زیادہ ہوتی ہے۔اسی طرح گناہوں میں ڈوبے ہوئے اکثر لوگ رمضان میں باز آجاتے ہیں اور توبہ کرکے اللہ تعالی ٰکی طرف رجوع کرتے ہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved