- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
بعض لوگ رمضان المبارک کا آخری جمعہ”جمعۃ الوداع“ کے طور پر مناتے ہیں۔یہ لوگ اس دن چند مخصوص کام کرتے ہیں جیسے
1: ان دن کو ”جمعۃ الوداع“ کا نام دینا
2: رمضان کے گزرنے پر حسرت و افسوس کا اظہار کرنا
3: باوجود حسرت وافسوس کے اظہار کے اس دن نئے کپڑوں کا اہتمام کرنا اور اس جمعہ کو باقی جمعوں سے زیادہ اہمیت دینا
4: بعض علاقوں میں خطیب کا خطبہ جمعہ میں مخصوص الفاظ مثلاً ”الوداع الوداع یا شھر رمضان“ یا ”الفراق الفراق یا شھر رمضان“ پڑھنا
کیا آخری جمعہ کو ان چیزوں کا اہتمام کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یا بعد کے ادوار میں کہیں ملتا ہے؟ اکابرین علمائے امت نے اس بارے میں کچھ فرمایا ہے تو ازراہِ کرم اس بارے میں صحیح بات کی رہنمائی فرمائیں ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
”جمعۃ الوداع“ کا تصور محض پاک وہند میں پایا جاتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین، ائمہ فقہاء ومحدثین رحمہم اللہ اور دیگر اسلاف و اکابرین امت سے رمضان کے آخری جمعہ کو ”جمعۃ الوداع“ کہنا اور اس طرز پر منانا ثابت نہیں۔ اس جمعہ کو کیے جانے والے مخصوص افعال مثلاًعید کی طرح اس جمعہ کی تیاری کرنے، عام جمعوں سے زیادہ اس کا اہتمام کرنے، حسرت وافسوس کا اظہار کرنے، خطبوں میں مخصوص جملے بیان کرنے، رمضان کے جانے پر اس کے فضائل اور حسرت کا اظہار کرنے کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں بلکہ پاک وہند کے ہمارے اکابرین نے سختی سے اس کی تردید فرمائی ہے اور بعض نے تو بدعت تک کہا ہے۔ یہ جمعہ بھی رمضان کے دیگر جمعوں کی طرح فضیلت کا حامل ہے لیکن اس میں ثواب اور مستحب سمجھ کر مخصوص امور کا ارتکاب ثابت نہیں۔ اس لیے ان امور سے احتراز لازم ہے۔
اکابرین واسلاف کی چند تصریحات ملاحظہ ہوں:
[1]: مولانا ابو الحسنات عبد الحئی لکھنوی الحنفی (ت1304ھ) رمضان کےآخری جمعہ کے اس مخصوص خطبہ کی تردید ان الفاظ میں کرتے ہیں۔
“ومن الأمور المحدثۃ ما ذاغ فی أکثر بلاد الھند والدکن وغیرھما من تسمیۃ خطبۃ الجمعۃ الأخیرۃ ب “خطبۃ الوداع” ، وتضمینھا جملاً دالۃً علی التحسر بذھاب ذلک الشھر ، فیدرجون فیھا جملاً دالۃً علی فضائل ذلک الشھر ، ویقولون بعد جملۃ أو جملتین: الوداع الوداع أو الفراق الفراق شھر رمضان، أو الوداع الوداع شھر رمضان ونحو ذلک من الألفاظ الدالۃ علی ذلک.”
(مجموعہ رسائل: ج2 ص 24، عنوان رسالہ: رد ع الاخوان عن محدثات آخر جمعۃ رمضان)
ترجمہ: ہند اور دکن کے بعض شہروں میں جو کام نئے پیدا ہوئے ہیں ان میں ایک یہ ہے کہ یہ لوگ رمضان کے آخری جمعہ کے خطبہ کو ”خطبۃ الوداع“ کا نام دیتے ہیں۔ اس خطبہ میں ایسے ایسے جملے کہے جاتے ہیں جن میں رمضان کے جانے پر حسرت و افسوس کا اظہار ہوتا ہے۔ یہ لوگ اس خطبہ میں اس مہینہ کے فضائل پر مشتمل چند جملے بولتے ہیں پھر ایک دو جملوں بعد یوں کہتے ہیں: ”الفراق الفراق شھر رمضان“ یا ”الوداع الوداع شھر رمضان“
[2]: قطب الاقطاب فقیہ النفس حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی (ت1322ھ) لکھتے ہیں:
(سوال) پڑھنا آخر میں ماہِ رمضان المبارک میں ”الوداع الوداع یا شھر رمضان“ اور ”الوداع الوداع یا سنۃ التراویح“ اور اشعار فارسی یا اردو عربی کا ہر جمعہ میں یا اخیر جمعہ ماہ رمضان المبارک میں در صورتیکہ عوام الناس خطبہ الوداع آخر جمعہ رمضان المبارک کو سنت بلکہ قریب واجب جانتے ہوں، کیسا ہے؟ آیا حسبِ زعم ان کے سنت یا مستحب یا بخلاف اس کے بدعت ہے؟ بدلائل عقلیہ ونقلیہ از کتب معتبرہ جواب ارقام فرمایا جاوے۔ بینواتوجروا۔
(جواب) یہ خطبہ بدعت ہے کہ مرثیہ اور اشعار قرون مشہود لہا بالخیر میں خطبہ میں منقول نہیں علی الخصوص جب اس فعل کو ضروری جانا جاوے کہ مؤکد جاننا کسی امر مستحب کو بھی داخل تعدی حدود اللہ ہے اور بدعت ضلالہ ہے چہ جائیکہ امر محدث اور پھر غیر عربی زبان میں خطبہ پڑھنا مکروہ ہے۔ بہرحال یہ فعل عوام جہلاء خطباء اور سنت جاننا اس کا بدعت ضلالہ واجب الترک ہے۔
(فتاویٰ رشیدیہ: ص157 کتاب العلم)
مزید تحریر فرماتے ہیں:
”خطبہ الوداع بدعت ہے۔“
(فتاویٰ رشیدیہ: ص158 کتاب العلم)
[3]: مفتی دار العلوم دیوبند ؛ حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمٰن (ت1347ھ) لکھتے ہیں:
(سوال) خطبہ جمعہ اخیرہ رمضان المقدس جو کلمات حسرت وافسوس الوداع الوداع اور الفرق الفراق پر مشتمل ہے، یہ حدیث سے ثابت ہے یا نہیں؟
(الجواب) ثابت نہیں ہے۔ فقط
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند: ج5 ص78 عنوان رمضان کے آخری جمعہ میں الوداع الفراق ثابت نہیں)
آپ رحمہ اللہ ایک اور مقام پر تحریر فرماتے ہیں:
”الوداع کا پڑھنا خطبہ اخیرہ ماہ رمضان مبارک میں سلف اہل السنۃ سے ثابت نہیں ہے اور بعض علماء نے لکھا ہے کہ یہ شعار روافض کا ہے، پس اس کو ترک کرنا چاہیے۔ واللہ تعالیٰ اعلم“
(عزیز الفتاویٰ مرتبہ از مفتی محمد شفیع: ج1 ص306)
[4]: حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی (ت1362ھ) ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:
حاصل خطبۃ الوداع اظہار تاسف است بر انقضائے رمضان وایں چنیں تاسف از حضرت نبویہ یا از سلف صالحین در خیر القرون جائے منقول نشد البتہ تنویہ بمجیئ رمضان وتنبیہ بر فضل آن در احادیث آمدہ است کہ در آخر جمعہ شعبان در خطبہ فرمودند پس او را گزاشتہ برائے آخر جمعہ رمضان خطبہ خاص مقرر نمودن ظاہر است کہ تغییر مشروع وقلب موضوع است بلکہ اگر نیک نگرند بجائے تاسف گونہ سرور وفرح بر ختم آں مطلوب می نماید چنانچہ در حدیث منصوص است ”للصائم فرحتان؛ فرحۃ عند الٳفطار وفرحۃ عند لقاء ربہ“ ظاہر است کہ اگر تاسف وقت انقضاء رمضان مشروع بود حصہ ازاں تاسف وقت انقضاء اجزایش کہ صوم ہر روز است نیز مشروع بودے ہر گاہ وقت انقضائے اجزایش کہ افطار صغیر است فرح وسرور محمود شد لامحالہ انقضائے مجموعہ افطار کبیر است نیز فرح وسرور مقصود شد پس اظہار تاسف مزاحمت است بدیں مامور بہ۔
(امدا الفتاویٰ: ج1 ص539)
ترجمہ: خطبہ الوداع کا حاصل رمضان کے پو را ہو نے پر اظہارِ افسوس کرنا ہے حالانکہ اس طرح افسوس کا اظہار کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور خیر القرون میں صالحین میں سے کسی سے بھی منقول نہیں۔ ہاں البتہ رمضان کی آمد کی خبر دینے اور اس کی فضیلت بتانے کا تذکرہ احادیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کے آخر میں ایک خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔ پس اس کے بجائے رمضان کے آخری جمعہ کو خاص خطبہ مقرر کرنا ظاہر ہے کہ شریعت کو تبدیل کرنے اور مقصود سے ہٹنے والی بات ہے۔ بلکہ اگر غور کیا جائے تو بجائے افسوس کرنے کے اس میں ایک گونہ مسرت اور خوشی کا مطلوب ہونا معلوم ہو تا ہے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں؛ ایک جب وہ روزہ افطار کرتا ہےا ور دوسری جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا۔ ظاہر ہے کہ اگر رمضان کے گزرنے پر افسوس کا اظہار کرنا شرعی حکم ہوا تو یہ افسوس کرنا رمضان کے تمام اجزاء (یعنی روزے) میں سے ہر ہر جزء کے گزرنے پر ہوتا حالانکہ ہر روزے پر فرحت وخوشی کا مشروع ہونا ثابت ہے جو کہ افطار صغیر ہے تو لامحالہ ان اجزاء کے مجموعہ کے اختتام پر خوشی کا مقصود ہونا بدرجہ اولیٰ ثابت ہو گا جو کہ افطار کبیر ہے۔ لہذا رمضان کے گزرنے پر فرحت وخوشی کا پایا جانا مقصود شریعت ہے جبکہ افسوس کا اظہار کرنا اس مقصود کے خلاف ہے۔
[5]: فقیہ الامت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی (ت 1416 ھ) لکھتے ہیں:
”یہ خطبہ الوداع پڑھنا قرونِ مشہود لہا بالخیر سے ثابت نہیں، فقہاء نے اس کے پڑھنے کا ذکر نہیں کیا، مولانا عبد الحئی صاحب لکھنوی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بدعت اور ممنوع ہونے کا تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔ فقط واللہ اعلم “
© Copyright 2025, All Rights Reserved