- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
حضرت! یہاں سعودی عرب میں سحری کا وقت ختم ہونے کے بعد تقریباً ایک منٹ بعد اذان ہوتی ہے ۔ میرے دو ساتھی اذان تک پانی پی رہے تھے یعنی سحری کا وقت ختم ہو چکا تھا اور وہ پانی پی رہے تھے ۔ میں نے ان کو روکا اور منع بھی کیا مگر وہ پیتے چلے گئے حالانکہ ان کو بھی اس بات کا علم ہو چکا تھا کہ وقت ختم ہو گیا ۔ حضرت! ایسے میں کیا ان کا روزہ ہو گا یا بعد میں روزہ کی قضا کرنی ہو گی ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
صبحِ صادق ہونے تک کھانے پینے کی اجازت ہوتی ہے۔ جب صبحِ صادق ہو جائے تو اب کھانا پینا جائز نہیں ہوتا۔
﴿وَكُلُوْا وَاشْرَبُوا حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ﴾
(سورۃ البقرة:187)
ترجمہ: کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ فجر کے وقت سفید دھاگا سیاہ دھاگے سے واضح ہو جائے(یعنی طلوعِ فجر ہو جائے)
آپ کے ہاں فجر کی اذان صبحِ صادق کے ایک منٹ بعد ہو رہی ہے اور آپ کے ساتھی اذان کے دوران ہی کھاتے پیتے رہے اس لیے ان کا روزہ نہیں ہوا۔ ان پر بعد میں ایک روزے کی قضاء رکھنا لازم ہے۔ انہیں چاہیے کہ آئندہ احتیاط کریں کہ طلوعِ فجر سے پہلے پہلے کھانا پینا بند کر دیا کریں!
© Copyright 2025, All Rights Reserved