• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

ریل گاڑی کے اندر گزرگاہ میں نماز پڑھنے کا حکم

استفتاء

دریافت یہ کرنا ہے کہ ریل گاڑی میں سفر کے دوران اکثر نماز کی ادائیگی کی ضرورت پیش آتی ہے، ایسی صورت میں درمیانی گزرگاہ کو روک کر  نماز کی ادائیگی درست ہے یا نہیں؟ کیوں کہ گزرگاہ  میں جگہ کی تنگی کی وجہ سے نماز ادا کرنے سے آمد و رفت کا سلسلہ منقطع    ہو جاتا ہے،   رہنمائی فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ریل گاڑی میں سفر کے دوران راستہ روک کر گزرگاہ میں نماز ادا کرنا اس شرط کے ساتھ  درست ہے کہ نماز کی ادائیگی مکمل ہونے تک   مسافر بخوشی اپنی آمد و رفت کا سلسلہ موقوف کر دیں اور اس میں کسی قسم کی دقت اور پریشانی محسوس نہ کریں۔

لیکن اگر  گزرگاہ میں نماز ادا کرنے کی وجہ سے مسافروں کو دقت ہو، پریشانی کا سامنا ہو ، مسافر  لوگ آمد و رفت کے موقوف ہونے  کی وجہ سے تکلیف  اور حرج محسوس کریں تو ایسی صورت میں وہاں نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے،  کیوں کہ  اب اس جگہ نماز پڑھنا لوگوں کی ایذاء کا موجب ہے  اور لوگوں کو ایذاء سے بچانا ضروری ہے۔ تاہم اگر کسی نے گزرگاہ  میں نماز پڑھ لی تو اس کی نماز ادا ہو جائے گی البتہ مسافروں کو تنگی اور تکلیف میں مبتلاء کرنے کا گناہ اسے ملے گا۔

ریل گاڑی میں گزرگاہ کے علاوہ برتھ کے درمیانی جگہ میں اگر  سمتِ قبلہ اور قیام کی شرط کے ساتھ نماز پڑھنا ممکن ہو تو ”سُترہ“ رکھ کر   وہاں نماز ادا کی جائے۔ اگر وہاں  (برتھ کے درمیانی جگہ میں)قیام اور سمتِ قبلہ کے ساتھ نماز ادا کرنے کی صورت ممکن نہ ہو تو پھر نماز کی  ادائیگی کے لیے تیاری کر لی جائے (وضو  کر لیا جائے اور مصلّی /جائے نماز تیار رکھی جائے) اور  اگلے جس  سٹیشن پر گاڑی رُکے تو   فوراً نماز ادا کر لی جائے۔ نماز کا وقت  باقی  ہو تو ادا، وقت گزر چکا ہو تو  قضا پڑھ لی جائے۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved