- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
سوال یہ ہے کہ کوئی شخص سعودی میں رہتا ہو اور وہ اپنی قربانی ہندوستان میں کروانا چاہتا ہو تو اس کی کیا شرائط ہیں ؟ راہنمائی فرمائیں۔اس لیے کہ اس میں معاصرین مفتیانِ عظام کی مختلف آراء ہیں، جن میں جامعہ قاسمیہ شاہی مراد کے مفتی شبیر احمد القاسمی صاحب کے فتاویٰ قاسمیہ جلد 22، مفتی سلمان منصور پوری صاحب کی کتاب النوازل جلد 14، کتاب المسائل جلد 02 ، اسی طرح مفتی اعظم گجرات مفتی سید عبدالرحیم صاحب لاجپوری کے فتاویٰ رحیمیہ جلد 10 اور فتاویٰ دارالعلوم زکریا جلد 06 میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر مؤکل کے یہاں ایک دن قبل عید الاضحٰی ہو اور وکیل کے یہاں ایک دن بعد تو اس لحاظ سے جانور جس جگہ پر ہوگا اس جگہ کا اعتبار کیا جائے گا یعنی مؤکل کے یہاں 13 ذی الحجہ ہو اور وکیل کے یہاں 12 ذی الجحہ تب بھی قربانی جائز ہوگی۔اس کےبرخلاف دارالعلوم دیوبند کے مفتی اعظم مفتی حبیب الرحمٰن صاحب خیرآبادی زیدمجدہم کا فتویٰ، جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کا فتویٰ، دارالعلوم کراچی کا فتوی ٰ یہ ہے کہ مؤکل اور وکیل دونوں کے ملک میں ایام النحر مشترک ہونے چاہییں ورنہ قربانی ادا نہیں ہوگی۔ مکمل تفصیل تمام تر فتویٰ جات کے ساتھ فتاویٰ قاسمیہ جلد 22میں موجود ہیں۔ میری آپ سے درخواست ہے کہ اس مسئلہ میں اپنی رائے سے نوازیں ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
گزشتہ سال فتویٰ نمبر1141کے تحت اس طرح کے مسئلہ کا جو جواب دیا گیا تھا ، وہی نقل کیا جاتا ہے:
“قربانی کرنے والا شخص جس جگہ پر ہو اور جہاں قربانی کا جانور ہو تو قربانی کے درست ہونے کے لیے ان دونوں جگہوں پر ایامِ قربانی کا پایا جانا ضروری ہے۔ اگر ایک جگہ قربانی کا دن پایا جا رہا ہو اور دوسری جگہ پر قربانی کے دن شروع ہی نہ ہوئے ہوں یا ختم بھی ہو چکے ہوں تو ان صورتوں میں قربانی درست نہ ہو گی”۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved