- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
قبر کے ثواب وعذاب سے متعلق دو سوالوں کے جوابات مطلوب ہیں :
[1]: کتاب و سنت سے معلوم ہوتا ہے کہ موت کے بعد قیامت سے پہلے قبروبرزخ میں بھی ثواب وعذاب ہوتا ہے اور جنت اور جہنم میں بھی ہوگا۔ تو ان دونوں کے درمیان فرق بیان کیجئے کہ قبر کی راحت وتکلیف اور جنت و جہنم کے ثواب وعذاب میں کیا فرق ہے؟۔
[2]: معراج کی رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت اور جہنم کامشاہدہ کرایا گیا ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف لوگوں کو مختلف عذابوں میں مبتلادیکھا۔ تو مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ لوگوں کے لئے جنت و جہنم کا فیصلہ کب ہوگا؟ اگر قیامت کے دن ہوگا تو قیامت سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم معراج کے رات جہنم کے عذاب کی صورتوں کو دیکھنے کا کیا مطلب ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
[1]: قبر اور آخرت کے ثواب وعذاب میں مندرجہ ذیل فرق ہیں :
(۱): قبر میں ملنے والی حیات کامل ،مکمل اور ظاہری نہیں ہوتی بلکہ اس میں صرف روح اور جسم کا اتنا تعلق ہوتا ہے جس سے میت؛ ثواب یا عذاب کو محسوس کرتی ہے جبکہ قیامت کے دن ملنے والی حیات کامل ،مکمل اور ظاہری ہو گی ۔
(۲): قبر میں حساب وکتاب اجمالی ہوتا ہے جبکہ قیامت کے دن حساب وکتاب تفصیلی ہو گا ۔
(۳): قبر میں جنت وجہنم کی کھڑکی کھولی جاتی ہے اور ثواب وعذاب عرضِ جنت یا عرضِ نار کی صورت میں ہوتا ہے جبکہ قیامت کے ثواب وعذاب؛ دخولِ جنت اور دخولِ نار کی صورت میں ہوگا ۔
[2]: جنت اورجہنم میں دخول کا فیصلہ تو قیامت کے دن حساب وکتاب کے بعد ہوگا البتہ قبر میں سوال وجواب کے بعد میت پہ نیند طاری کردی جاتی ہے اوراگر میت مومن ہو تو اس کی روح علیین میں رکھ کر اسی حالت میں ثواب ،اگر کافر یافاسق ہو تواس کی روح سجین میں رکھ کر اسی حالت میں عذاب کو محسوس کرتی ہے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات جن لوگوں کو عذاب میں مبتلادیکھا وہ سجین میں ان کی ارواح تھیں جو دنیا والی جسم کی شکل اختیار کرچکی تھیں اور ان کاتعلق دنیا والے جسموں کے ساتھ تھا۔
© Copyright 2025, All Rights Reserved