• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

قانتین اور عابدین میں فرق

استفتاء

حدیث پاک ہے:

عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلَّی الضُّحٰی رَکْعَتَیْنِ لَمْ یُکْتَبْ مِنَ الْغَافِلِیْنَ وَمَنْ صَلّٰی اَرْبَعاًکُتِبَ مِنَ الْعَابِدِیْنَ وَمَنْ صَلّٰی سِتًّاکُفِیَ ذٰلِکَ الْیَوْمَ وَمَنْ صَلّٰی ثَمَانِیًاکَتَبَہُ اللّٰہُ مِنَ الْقَانِتِیْنَ وَمَنْ صَلّٰی ثِنْتَیْ عَشَرَۃَ بَنَی اللّٰہُ لَہٗ بَیْتًافِی الْجَنَّۃِ.

                                     (مجمع الزوائد للہیثمی: رقم الحدیث 3419)

ترجمہ: حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے چاشت کی دو رکعات پڑھیں تو ا س کا نام غافلین میں نہیں لکھا جائے گا۔ جس نے چار رکعات پڑھیں تو اس کانام ”عابدین“ میں لکھا جائے گا۔ جس نے چھ رکعات پڑ ھیں تو اس دن اس شخص کی ضرویات پوری کی جائیں گی۔ جس نے آٹھ رکعات پڑھیں اللہ تعالیٰ اس کا نام   ”قانتین“ میں لکھ دیں گے اور جس نے بارہ رکعات پڑھیں تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنا دیں گے۔

عرض یہ ہے کہ اس حدیث پاک میں ”قانتین“ اور ”عابدین“ کے الفاظ ہیں۔ ان دونوں میں کیا فرق ہے ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

عابدین:

اللہ تعالیٰ کے سامنے حد درجہ عاجزی اختیار کرنے کو ”عبادت“ کہتے ہیں۔ ”عابد“ سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے کمال عاجزی اور حد درجہ بندگی اختیار کرے۔

امام ابو القاسم الحسین بن محمد المعروف راغب الاصفہانی (ت502ھ) لکھتے ہیں:

العبودية إظهار التذلل ، والعبادة أبلغ منها لأنها غاية التذلل.

                                         (المفردات للراغب الاصفہانی: ص319)

ترجمہ:  ”عبودیت“ کا معنی عاجزی کا اظہار کرنا ہے۔ ”عبادت“ اس سے زیادہ بلیغ لفظ ہے کیونکہ یہ عاجزی کی انتہائی کیفیت  کا نام ہے۔

قانتین:

”قانت“ اس شخص کو کہتے ہیں جو اطاعت پر دوام اختیار کرے یا عبادت میں طویل قیام سر انجام دے۔

ملا علی بن سلطان محمد القاری الھروی الحنفی (ت1014ھ) لکھتے ہیں:

القانتين أي المواظبين على الطاعة أو المطولين القيام في العبادة.

(مرقاۃ المفاتیح شرح  مشکوٰۃ المصابیح: ج4 ص316)

ترجمہ: قانتین؛ ان لوگوں کو کہتے ہیں جو اطاعت وفرمانبرداری پر دوام اختیار کریں یا عبادت کرتے ہوئے طویل قیام کریں۔

خلاصۃً یوں کہا جا سکتا ہے کہ نفسِ عاجزی واطاعت اختیار کرنے والوں کو  ”عابدین“ اور اس عاجزی و اطاعت پر دوام اختیار کرنے والوں کو ”قانتین“ کہتے ہیں۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved