• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

پب جی گیم کھیلنے والے امام کے پیچھے تراویح کا حکم

استفتاء

ایک حافظ صاحب رات کو تراویح پڑھاتے ہیں اور اس کے بعد سحری تک ایک گیم کھیلتے ہیں جس کا نام ”پب جی “ (PUBG) ہے۔ اکثر علماء نے فتویٰ  دیا ہے کہ جو شخص یہ گیم  کھیلے اس کا ایمان ضائع ہو جاتا ہے۔ تو جو حافظ صاحب یہ گیم کھیلے اس کے پیچھے تراویح کا کیا حکم ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

[۱]:    ہماری تحقیق کے مطابق پب جی گیم کھیلنے سے انسان ایمان سے خارج نہیں ہوتا البتہ اس گیم کے مفاسد،  تباہ کاریاں، دین وصحت پر مضر اثرات اور فرائض و واجبات میں تغافل یا تعطل کی وجہ سے یہ گیم کھیلنا گناہ اور ناجائز ضرور ہے۔ اس لیے اس سے بالکلیہ اجتناب لازم ہے۔

[۲]:       ایک عام انسان کے لئے ایسی گیم کھیلنا ناجائز اور حرام ہے تو ایک حافظ صاحب کے لئے جو تراویح کی امامت کرواتا ہو، یہ گیم کھیلنا کس طرح جائز اور درست ہو گا؟ ایسی ناجائز گیم میں اس قدر انہماک اور وہ بھی رمضان المبارک میں تراویح کے بعد یقیناً ان حافظ صاحب کے دین اور امورِ دین سے غفلت کی دلیل ہے۔ اس لئے اولاً تو ان حافظ صاحب کو نرمی سے سمجھا دیا جائے کہ وہ اس لایعنی کام سے اجتناب کریں خصوصاً جب مقتدی بھی ان کے اس کام سے واقف ہو چکے ہوں اور ممکن ہے کہ ان کے دل میں حافظ صاحب کی قدر ومنزلت باقی نہ رہی ہو۔ اگر وہ باز نہ آئیں اور اسی میں منہمک رہیں تو انہیں امامت سے ہٹا کر کسی نیک صالح حافظ صاحب کو مقرر کیا جائے اور انہی کے پیچھے تراویح پڑھی جائے۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved