• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

پراپرٹی کی زکوٰۃ موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے دی جائے

استفتاء

پراپرٹی کی زکوٰة نکالنے میں ایک دشواری یہ پیش آتی ہے کہ زمین کی موجودہ قیمت کا اندازہ نہیں ہوتا اور ایسا بھی نہیں ہوتا کہ جوزمین فروخت کرنے کے ارادے سے خریدی گئی ہے وہ ایک سال میں بک جاتی ہو کہ حاصل شدہ رقم کے حساب سے زکوٰة دے دی جائے  بلکہ بعض مرتبہ زمین کئی کئی سال تک پڑی رہتی ہے۔ ایسی صورت میں  اگر یہ کیا جائے کہ زمین خریدنے میں جتنی رقم لگائی گئی ہے اس کے حساب سے فی الحال ہر سال زکوٰة ادا کرتا رہے، مثلاً ایک زمین چار لاکھ کی خریدی ہے تو اب ہر مرتبہ چار لاکھ کے حساب سے زکوٰة ادا کر دے اور جس سال زمین فروخت ہو تو اس سال حاصل شدہ رقم کی زکوٰة ادا کرے۔ یہ صورت کیسی ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

یہ صورت درست نہیں۔ صحیح صورت یہی ہے کہ یہ شخص ہر سال اپنے پلاٹ کی مارکیٹ ویلیو معلوم کر کے اسی کے مطابق  زکوٰۃ ادا کرتا رہے۔ قیمتِ خرید کے اعتبار سے زکوٰۃ ادا کرنا درست نہ ہو گا۔

یہ بات ملحوظ رکھنی  چاہیے کہ مارکیٹ ویلیو وقتاً فوقتاً معلوم ہوتی رہتی ہے کیونکہ اکثر وبیشتر پلاٹس کے ریٹ لگتے ہی رہتے ہیں۔ اگر بالفرض سال کے بعد بھی مارکیٹ ویلیو معلوم کرنی پڑنے تو بھی یہ مشقت برداشت کر لینی چاہیے کیونکہ اس  مشقت میں اجر بھی ہے اور شرعی نقطہ نظر سے زکوٰۃ کی صحیح ادائیگی بھی اسی سے ممکن ہے۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved