• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

اونٹ کاگوشت کھانے سے وضو کا حکم

استفتاء

ایک مولوی صاحب فرما رہے تھے کہ اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟ کیا یہ بات درست ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ اس موقف کے دلائل یہ ہیں:

[1]:             عن أبى سبرة : أن عمر بن الخطاب أكل من لحوم الإبل ثم صلى ولم يتوضأ.

(مصنف عبد الرزاق: ج1 ص408 رقم الحدیث 1598، كنز العمال: رقم الحدیث 27155)

ترجمہ:  ابو سبرہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اونٹ کا گوشت کھایا ، پھر نماز پڑھی لیکن وضو نہیں کیا۔

٭ اس کی سند ”صحیح“ ہے۔

[2]:             يحيى بن قيس ، قال : رأيت ابن عمر أكل لحم جزور وشرب لبن إبل ثم صلى المغرب ولم يتوضأ.

(الاوسط لابن المنذر:  ج1 ص50)

ترجمہ:  یحییٰ بن قیس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ آپ نے اونٹ کا گوشت کھایا اور اونٹ کا دودھ پیا، پھر مغرب کی نماز پڑھی لیکن وضو نہیں کیا۔

٭ اس روایت کی سند ”صحیح“ ہے۔

[3]:             جمہور  حضرات کا موقف بھی یہی ہے کہ اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو لازم نہیں ہوتا۔  علامہ ابن المنذر (م318ھ) لکھتے ہیں:

وأسقطت طائفة الوضوء من لحوم الإبل ، وممن كان لا يرى ذلك واجبا مالك بن أنس وسفيان الثوري والشافعي وأصحاب الرأي ، وقد روي ذلك عن سويد بن غفلة وعطاء وطاوس ومجاهد وروي ذلك عن ابن عمر. (کتاب الاوسط لابن المنذر:  ج1 ص45)

ترجمہ: جن حضرات کا یہ کہنا ہے کہ اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا ان میں امام مالک بن انس، امام سفیان الثوری، امام شافعی،دیگر  فقہاء کرام شامل ہیں۔ یہی موقف سوید بن غفلہ، عطاء بن ابی رباح، طاوس اور مجاہد کا ہے اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے۔

فائدہ:

وہ روایات جن میں اونٹ کا گوشت کھانےپر  وضو کرنے کا ذکر ہے ان میں وضو سے مراد ہاتھ منہ دھونا ہے۔ (المسائل والدلائل: ص161)

اور اگر مکمل وضو مراد لیا جائے تو مراد یہ ہو گی کہ اونٹ کا گوشت کھانے پر وضو کرنا مستحب ہے، واجب و ضروری نہیں۔ اس  کی یہ دلیل ہے:

عَنْ جَابِرِ بن سَمُرَةَ، عَنْ أَبِيهِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّا أَهْلُ بَادِيَةٍ وَمَاشِيَةٍ، فَهَلْ نَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ وَأَلْبَانِهَا؟ قَالَ:”نَعَمْ”، قُلْتُ: فَهَلْ نَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ وَأَلْبَانِهَا؟ قَالَ:لا.

(المعجم الکبیر للطبرانی: ج7 ص270 رقم الحدیث7106)

ترجمہ:حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ اپنے والد حضرت سمرہ السوائی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے عرض کی کہ ہم دیہاتی لوگ ہیں اور مال مویشی پالتے ہیں۔ کیا ہم اونٹ کا گوشت کھانے اور اونٹنی کا دودھ پینے کی وجہ سے وضو کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انہوں نے عرض کی: کیا ہم اونٹ کابکری کاگوشت کھانے اور اس کا دودھ پینے کی وجہ سے وضو کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: نہیں۔

٭ اس روایت کی سند حسن ہے۔ (مجمع الزوائد للہیثمی: ج1 ص567)

اس حدیث میں اونٹ کے گوشت کے ساتھ ساتھ اونٹنی کے دودھ پینے پر بھی وضو کا ذکر ہے حالانکہ اونٹنی کے دودھ کی وجہ سے کوئی بھی وضو ٹوٹنے کا قائل نہیں ہے بلکہ اس دودھ پینے پر وضو کا حکم بالاجماع استحباب پر محمول ہے۔ لہذا اونٹ کا گوشت کھانے پر بھی وضو کا حکم استحباب پر محمول ہو گا اور واجب اور ضروری نہیں ہو گا۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved