• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

نسبتوں کے متعلق ایک تحریر کا جواب

استفتاء

امید ہے کہ مزاج بخیر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت فرمائے۔ آمین

حضرت! میرا نام محمد عمران ڈونگاوی  ہے۔ مجھے اللہ تعالیٰ نےاجازت و خلافت مفتی محمد اسلم قاسمی بستوی خلیفہ و مجاز حضرت مولانا قمر الزمان الہ آبادی سے عطا فرمائی ہے۔ آپ دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ اس نسبت کو کامل فرمائے اور قبول فرمائے۔

حضرت ایک غیر مقلد اہل حدیث صاحب نے ایک سوالیہ تحریر پیش کیے (جو مجھے آپ کی خدمت میں پیش کرنا ہے) …….وہ یہ ہے:

کیا آپ کو معلوم ہے؟

(1)     1960سے پہلے کوئی اہل حدیث نہیں تھا۔

(2)     1896سے پہلے کوئی کوئی بریلوی نہیں تھا۔

(3)     1867سے پہلے کوئی دیوبندی نہیں تھا۔

(4)     250ہجری سے پہلے کوئی حنبلی نہیں تھا۔

(5)     200ہجری سے پہلے کوئی مالکی اور شافعی نہیں تھا۔

(6)     150ہجری سے پہلے کوئی حنفی اور جعفری نہیں تھا۔

جبکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک کوئی شیعہ سنی نہیں تھا۔البتہ مسلم ضرور تھے جو آج کے دور میں شاید کہیں کھو گئے ہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اس تحریر کے جواب میں چند باتیں ملحوظ رکھی جائیں:

[1]:   کامیابی کی اصل بنیاد صحیح عقائد و نظریات اور صحیح اعمال ہیں۔ اگر کوئی شخص برحق عقائد و نظریات کا حامل اور مسنون اعمال پر عامل ہے تو وہ بلاشبہ کامیاب ہے۔ نام اور نسبتیں تعارف کے لیے  ہوا کرتی ہیں، مقصود اصلی نہیں۔

[2]:   وہ مسائل جن کا صراحتًا حل ہمیں قرآن و حدیث میں نہیں ملتا تو شریعتِ مطہرہ نے ان کے بارے میں فقہاء و مجتہدین کی پیروی کا حکم دیا ہے۔ ان اجتہادی مسائل میں فقہائے کرام کی بات پر عمل پیرا ہونا  اسی شریعت پر عمل پیرا ہونے کے مترادف ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لائے تھے۔ گویایہ نسبتیں ؛ حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی شریعت پر عمل پیرا لوگوں ہی کا نام ہیں، کوئی الگ چیز نہیں۔

[3]:   ہم اھل السنۃ والجماعۃ حنفی دیوبندی ہیں۔

”اھل السنۃ والجماعۃ“ کی  نسبت میں ہمارا انتساب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور جماعت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف ہے جس کے برحق ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔

”حنفی“  کی نسبت میں ہمارا انتساب  امام اعظم نعمان بن ثابت رحمہ اللہ کی طرف ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کے غیر منصوص مسائل  کا استنباط کر کے امت کے سامنے لائے ہیں۔ یہ بھی برحق ہے۔

”دیوبندی“نسبت میں ہمارا انتساب   علمائے دیوبند کی طرف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اھل السنۃ والجماعۃ کے جو عقائد و نظریات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے آج تک چلے آ رہے ہیں برصغیر میں کچھ لوگوں نے ان کی غلط تعبیر و تشریح کی۔ تو ہم نے ان غلط تعبیرات وتشریحات کے بالمقابل صحیح تعبیرات وتشریحات اختیار کیں جو علمائے دیوبند نے کی تھیں۔   یہ بھی صحیح ہے۔

تو یہ تین نسبتیں دراصل اسی شریعت پر عمل پیرا ہونے کی تین مختلف تعبیرات ہیں جن کا مقصود اسلام ہی ہے اور ان نسبتوں کے حامل مسلمان ہیں۔

[4]:   اگر محض نسبت پر ہی کامیابی کا مدار ہے، عقائد ونظریات ضروری نہیں جیسا کہ صاحب تحریر کی تحریر سے واضح ہو رہا ہےتو صاحبِ تحریر کے ذمہ ہے کہ ان امور کی وضاحت کرے!

۱:      دورِ حاضر میں ایک فرقہ اپنے آپ کو ”اہل قرآن“ کہہ رہا ہے۔ تو کیا صاحبِ تحریر اسے ”اصلی مسلمان“ کا نام دیں گے؟ کیوں کہ یہ فرقہ اسی قرآن کی طرف نسبت کر رہا ہے  جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تھا۔

۲:      مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار خود کو ”احمدی مسلمان“ باور کراتے ہیں۔ کیا اس نسبت ”احمدی“  کی وجہ سے ان کو بھی صحیح کہا جائے گا؟

نہیں اور ہر گز نہیں  جو اس بات کی دلیل ہے کہ اصل بنیاد صحیح عقائد و نظریات ہیں، نا م محض تعارف کے لیے ہیں۔ ہم اھل السنۃ والجماعۃ احناف دیوبند بحمداللہ صحیح عقائد و نظریات پر کاربند ہے۔  اسلیے ہماری ان نسبتوں پر اشکال کرنا خود قابلِ اشکال ہے۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved