• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

نکاح پڑھانا مسلمان ہونے کی دلیل نہیں

استفتاء

شیعہ لوگوں کا اعتراض ہے کہ حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا کا نکاح ابو طالب نے پڑھایا ہے۔ تو اس کے کافر ہونے کا کیا مطلب؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1: کفر یا اسلام کا مدار اسلام قبول کرنے یا نہ کرنے پر ہے، محض نکاح کا خطبہ پڑھنے کی بناء پر کسی کو مسلمان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ابو طالب کے متعلق صحیح روایات میں موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی تھی لیکن انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَبَا طَالِبٍ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ دَخَلَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ أَيْ عَمِّ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ كَلِمَةً أُحَاجُّ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ يَا أَبَا طَالِبٍ تَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَمْ يَزَالَا يُكَلِّمَانِهِ حَتَّى قَالَ آخِرَ شَيْءٍ كَلَّمَهُمْ بِهِ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْهُ فَنَزَلَتْ ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ﴾ وَنَزَلَتْ ﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ﴾(صحیح البخاری: رقم الحدیث 3884)
ترجمہ:حضرت مسیب بن حزن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ابو طالب کی وفات کا وقت قریب آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے۔ اس وقت ان کے پاس ابو جہل بھی بیٹھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا : اے میرے چچا!لا الہ الا اللہ کلمہ پڑھ لیجیے تاکہ میں اس کلمے کے ذریعے اللہ کے ہاں آپ کے حق میں گواہی دے سکوں۔ اس پر ابو جہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ کہنے لگے : اے ابو طالب! کیا آپ عبد المطلب کے دین سے منحرف ہو جائیں گے؟ وہ یہ بات مسلسل کہتے رہے حتیٰ کہ ابو طالب نے اپنی آخری بات یہ کہی کہ میں عبد المطلب کے دین پر ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :مجھے جب تک روکا نہ گیا تو اس وقت تک میں اللہ تعالیٰ سے آپ کے لیے استغفار کرتا رہوں گا۔ چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی:ترجمہ: نبی اور ایمان لانے والوں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ مشرکین کے لئے استغفار کریں خواہ وہ ان کے قریبی عزیز ہی کیوں نہ ہوں2: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح ہوا تھا تو اس وقت نکاح کے وہ احکامات نہیں تھے جو بعد میں نازل ہوئے تھے۔ اس وقت تو کافر سے نکاح کرنے کی ممانعت بھی نہیں تھی۔ گواہوں کی شرط بھی نہیں تھی۔ محض مرد وعورت کے ایجاب وقبول سے نکاح ہو جاتا تھا۔ تو جب نکاح کے وہ احکام تھے ہی نہیں جو آج ہیں تو محض خطبہ پڑھنے پر ”مسلمان“ ہونے کا حکم لگانا کہاں درست ہو سکتا ہے؟ جب کہ بالاتفاق خطبہ پڑھنا نکاح کی صحت کے لیے شرط ہی نہیں!!واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved