- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
دریافت یہ کرنا ہے کہ نکاح کے وقت نکاح خواں تین بار ایجاب کے الفاظ دوہراتا ہے اور لڑکے سے تین بار قبول کراتا ہے، تو کیا شرعاً تین بار ایجاب و قبول کرنا ضروری ہے یا ایک ہی بار کافی ہے؟ نیز یہ بھی بتا دیجیے کہ نکاح کے موقع پہ لڑکے سے کلمہ پڑھوایا جاتا ہے کیا یہ ضروری ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
نکاح کے منعقد ہونے کے لیے ایک سے زائد بارتین یا چار دفعہ ایجاب و قبول کرانا کوئی ضروری نہیں، بس ایک بار ایجاب و قبول کرا لینے سے نکاح منعقد ہو جاتا ہے۔ اسی طرح نکاح کے موقع پر نکاح خواں بعض علاقوں میں دُلہا ، دُلہن کو کلمہ پڑھاتے ہیں یہ بھی شرعاً ضروری نہیں، ہاں اگر کسی جگہ بہت زیادہ بے دینی کا ماحول ہو اور خدشہ ہوکہ دلہا ، دلہن سے کسی موقع پر ایسے الفا ظ سرزد نہ ہوگئے ہوں جو ایمان سے خارج کردیتے ہیں تب کلمہ پڑھا لینے میں کوئی حرج نہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved